خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 247 of 660

خطابات نور — Page 247

یعنی بعض دفعہ خدا وعدہ کرتا ہے مگر پورا نہیں کرتا۔نادان سمجھتا ہے کہ اس نے وفا نہیں کی حالانکہ مناسب وقت پر وہ وعدہ دیا اس کی مثل پورا ہو جاتا ہے۔امامت کی خواہش نہیں :۔میری پچھلی زندگی پر غور کر لو میں کبھی امام بننے کا خواہش مند نہیں ہوا۔مولوی عبدالکریم مرحوم امام الصلوٰ ۃ بنے تو میں نے بھاری ذمہ داری سے اپنے تئیں سبکدوش خیال کیاتھا۔میں اپنی حالت سے خوب واقف ہوں اور میرا ربّ مجھ سے بھی زیادہ واقف ہے۔میں دنیا میں ظاہر داری کا خواہشمند نہیں۔میں ہر گز ایسی باتوں کا خواہشمند نہیں۔اگر خواہش ہے تو یہ کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جائے۔اس خواہش کے لئے میں دعائیں کرتا ہوں قادیان بھی اسی لئے رہا اور رہتا ہوں اور رہوں گا۔میں نے اس فکر میں کئی دن گذارے کہ ہماری حالت حضرت صاحب کے بعد کیا ہوگی۔اسی لئے میں کوشش کرتا رہا کہ میاں محمود کی تعلیم اس درجہ تک پہنچ جائے حضرت صاحب کے اقارب میں اس وقت تین آدمی موجود ہیں۔اول میاں محموداحمد وہ میرا بھائی بھی ہے میرا بیٹا بھی۔اس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں۔قرابت کے لحاظ سے میر ناصر نواب صاحب ہمارے اور حضرت کے ادب کا مقام ہیں۔تیسرے قریبی نواب محمد علی خان صاحب ہیں۔اسی طرح خدمت گذار انِ دین میں سے سید محمد احسن صاحب نہایت اعلیٰ درجہ کی لیاقت رکھتے ہیں۔سید بھی ہیں خدمات دین میں بھی ایسے کام کئے ہیں کہ میرے جیسا انسان شرمندہ ہوجاتا ہے۔آپ نے ضعیف العمری میں بہت سی تصانیف حضرت کی تائید میں کیں۔یہ ایسی خدمت ہے جو انہی کا حصہ ہے بعد اس کے مولوی محمد علی صاحب ہیں جو ایسی خدمات کرتے ہیں جو میرے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتیں۔یہ سب لوگ موجود ہیں۔باہر کے لوگوں میں سید حامد شاہ اور مولوی غلام حسن ہیں اور بھی کئی اصحاب ہیں۔یہ ایک بڑا بوجھ ہے، خطرناک بوجھ ہے اس کا اٹھانا مامور کا کام ہو سکتا ہے۔کیونکہ اس سے خدا کے عجیب در عجیب وعدے ہوتے ہیں جو ایسے دکھوں کے لئے جو پیٹھ توڑ دیں عصا بن جاتے ہیں۔موجودہ حالت میں سوچ لو۔کیسا وقت ہے جو ہم پر آیا ہے۔اس وقت مردوں بچوں عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وحدت کے نیچے ہوں اس وحدت کے لئے ان بزرگوں میں سے کسی کی بیعت کر لو۔میں تمہارے