خطابات نور — Page 237
(حٰم السجدۃ:۳۱) پس ایسے لوگوں پر پھر ملائکہ نازل ہوتے اور خدا کہتا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں مت غم کھائو۔پس اس طرح ملائکہ کا ماننا بھی نیکی سکھلاتا اور بدی سے روکتاہے۔۴۔پھر پاک اور مقدس کتابیں بھی ایمان لانے سے ایسی ہی تحریک کرتی ہیں۔مصنف کے خیالات کا اثر پڑھنے والے پر پڑتا ہے۔مثلاًمثنوی میر حسن کے اثر سے ہزاروں عورتیں اور مرد ہندوستان میں بدکار ہو گئے۔یہ بات بہت مصنفین نے صاف لفظوں میں لکھی ہے۔اب ہم اپنا مشاہدہ دیکھتے ہیں کہ ناول ‘ افسانے ، عشق وحسن کے قصے پڑھنے والوں کو دیکھو کہ ان کا نتیجہ نیک اٹھایا یا بد۔بہت کتابیں بازار وں میں پڑی ہوئی ہوں گی اور تمہارے لوگ پڑھتے ہوں گے ان کا مطالعہ کر کے دیکھ لو کہ ان کے نتا ئج کیا نکلے ہیں ؟ میں نے ایک دفعہ راگ کے مسئلہ پر خیال کیاتو خیا ل آیاکہ گیت گانے والوں نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا ہے۔اور گیت گانے والے کون لوگ ہیں۔کنجر ‘ بھڑوے ‘ راس دہارئے ‘ مراسی ‘ ڈوم ‘ پھر قوال۔ذرا غور کرو ان میں زیادہ قدر لوگ قوالوں کی کرتے ہیں مگر بندہ تو فعال چاہیے۔وہ تو صرف قوال ہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ قرآن کو اور اشعار کو سریلی آوازو ں سے پڑھنے والوں کے اعمال پر غور کرو وہ ان کے اقوال کے مطابق ہی نہیں ہوتے۔پس ملائکہ کے ایمان کے بعد مقدس لوگوں کی کتابیں پڑھنے سے بہت فائدے ہوتے ہیں پھر خدا اور انبیاء کی کتابیں۔۵۔پھر پاک لوگوں کی صحبت اور پاک نمونوں سے انسان نیک بنتاہے اور انبیاء اور ان کی کتابوں پر ایمان لانے سے ہم نیک نمونے دیکھتے ہیں۔یہ جڑہیں ہیں تقو یٰ کی۔اب ان جڑہوں کے پھل اور نتائج کیا ہیں۔گر جان طلبی مضائقہ نیست ور زر طلبی سخن دریں است ابھی اگر چندہ کا سوال کر یں تو یہ مجلس درہم برہم ہو جاوے میں چندہ کی درخواست ہرگز نہیں کرتا۔پر وہ لوگ جوان جڑہوں کے پابند ہوتے ہیں(البقرۃ:۱۷۸) ہوتے ہیں۔اللہ کی محبت اور اللہ کی مخلوق پر رحمت کرنے کے لئے مال خرچ