خطابات نور — Page 20
وھو ھذا اشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ۔اَ مَّا بعد۔بچو ! تم جانتے ہو کہ میں نے یہ کیا پڑھا ہے یہ وہ پاک کلمہ ہے جو اسلام کے شروع میں ہی پڑھایا جاتا ہے۔جانتے ہو کہ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا کیا مطلب ہے۔یہی کہ کوئی اللہ (جامع جمیع صفات کاملہ اور ہر بدی سے منزّہ) کے سوائے سچی فرمانبرداری کے لائق نہیں اور اس کی فرمانبرداری کے سکھلانے والے محمد مصطفی احمد مجتبیٰ دنیا میں پہلے وہ شخص آئے ہیں جن کی نظیر اولین وآخرین میں نہیں پائی جاتی۔وہ اللہ کے رسول ہیں۔کیونکہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے اور اسی کی فرمانبرداری کی راہیں سکھاتے ہیں اور ان سارے احکام کے مجموعے کو جو آپؐ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں قرآن شریف کہتے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ جس وقت سے انسان لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پڑھتا ہے اسی وقت سے اس پر فرض ہو جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی سچی فرمانبرداری نہ کرے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے محمد رسول اللہ اور قرآن شریف سے مشورہ لیوے اور اپنی ساری ضرورتوں اور حاجتوں کا پورا کرنے والا انہی کو جان کر ہر حال میں انہی سے استمداد چاہے کیونکہ وہ خدا جس نے محمد کو رسول اور اپنے احکام کا مجموعہ قرآن شریف اسے دے کر دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے وہ بڑی قدرت اقتدار اور جبروت کا مالک ہے۔وہی ہوا پانی اور ساری ان چیزوں کا جن سے تم وقتاً فوقتاً اپنی ضروریات پوری کرتے ہو فائق ہے۔اسی نے تم کو آنکھ دی کہ تم دنیا کی عجائبات قدرت کو دیکھو کان دئیے کہ سنو۔ان کے سوا سارے اعضا ء جن سے تم مختلف قسم کے فائدے حاصل کرتے ہو اسی کی عنایت ہیں۔اب ذرا اس کے عطیات اور انعامات پر غور کر کے فکر تو کرو کہ وہ کیسا طاقتور اور کیسا عظیم الشان بادشاہ ہے جس کو لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کے اقرار کرنے والا انسان مانتا ہے اور درحقیقت انسان کو ضرورت بھی ایسے ہی خدا کی ہے جو اس کی ساری حاجتوں اور ضرورتوں کو جو اسے پیدا ہونے بلکہ نطفہ ہونے کی حالت سے اس دنیا سے قطع تعلق کرنے تک اور اس کے بعد اس لا انتہا زمانے میں ہوتی ہیں پورا کر سکے۔ورنہ ایسے خدا کے سوا انسان کا دنیا میں رہنا ممکن ہی نہیں اورنہ آخرت میں اس کے سوا چارہ ہے۔ایسا خدا قادر مطلق ربّ