خطابات نور — Page 235
واقف بھی کوئی نہیں۔میں تمہیں دو روپیہ نذر دیتا ہوں مجھے سر پر دو جوت لگا لینے دو۔تو وہ ڈر گیا کہ یہ کہیں ایسا کر نہ بیٹھے اور کہا کہ دیکھنا کہیں ایسی حرکت کر نہ بیٹھنا۔پس میں نے کہا کہ دیکھو یہاں تم کو دو روپیہ بھی ملتے ہیں اور کوئی ہمارا شناسا بھی نہیں ہے تو تم صرف دو جوت کو پسند نہیں کرتے۔پھر کیا وجہ کہ اس ذلت کو تم ساری دنیا کے سامنے پسند کرو گے۔پس یہ شہادت تو تمہاری اپنی فطرت میں موجود ہے۔ہر ایک بد کار قوم کے اندر ہی ایک ملزم کرنے والا موجود ہے۔مثلاًڈاکو ، ٹھگ ، چور، کنجر میں نے دیکھے اور ان لوگوں کو نصیحت کی ہے وہ کہتے کہ ہم ان باتوں کو بدی نہیں سمجھتے۔میں نے ایک کنجر کو جواب میں کہا کہ کیا تم اپنی بہو سے زنا کرواتے ہو تو اس نے جواب دیا کہ نہیں پر اس لئے کہ دوسرے کی لڑکی کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔پس جو شخص تمہارے گھر میں بد کاری کے واسطے آیا ہے کیا وہ لڑکی اس کے واسطے غیر کی نہیں۔اسی طرح ٹھگ اور چور ٹھگی اور چوری کو اپنے جتھے میں برُا سمجھتے ہیں۔میں نے ٹھگوں اور چوروں سے بھی پوچھا ہے کہ تم چند آدمی مل کر ایسا کام کرتے ہو اور مال صرف ایک آدمی کے سپرد کرتے ہو اگر وہ اس میں سے کچھ نقصان کر لے تو پھر جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ ایسا کرے تو وہ کمینہ اور بد ذات چور ہے اور ہماری شرکت کے قابل نہیں۔میں نے کہا کیا دوسرے کا مال کھانے والا کمینہ اور بد ذات ہو تاہے تو پھر لاجواب ہو گیا۔پس ہر ایک انسان کے اندر حق کی شناخت اور حق کا واعظ موجود ہے۔لہٰذا جزا وسزا کا اعتقاد بھی نیکی پر مائل کرتا ہے۔پس یوم آخرت کے یہی معنے سمجھ لو کہ بدی کو نتیجہ ضرور بھگتنا پڑے گا اور پڑتا ہے۔۳۔تیسرا ذریعہ نیکی کا محرک ہے پر افسوس کہ لوگوں نے اس کی قدر نہیں کی اور اگر کی ہے تو کم کی ہے یا اس پر ایمان نہیں یہ فرشتوں کا اعتقاد ہے اور لوگوں نے اس کو ایک معمولی وجود سمجھا ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے ملائکہ کااعتقاد۔جزو ایمان میں کیوں بتلایا۔میں تو ان کے اسباب اور نتائج وغیرہ وغیرہ کاموں میں بڑا لگا رہتا ہوں اور بقدر اپنی طاقت کے ہمیشہ ایسی تلاشوں میں رہتا ہوں۔ملائکہ پر ایمان جیسے میںنے بتایا ہے کہ شروع وعظ کیا تقویٰ سے اور پہلے بتا دیا یہ کہ تقویٰ کے