خطابات نور — Page 234
گویّا گانے والوںکے مکان پر‘اور فقیر تکیہ پر‘ برہمن ٹھاکر دوارے میں اور عیسائی مشن کمپائونڈ میں اس کی تلاش کرکے جا ڈیرہ لگاوے گا۔پس انسان جس سے تعلق پیدا کرتا ہے اسی کے پاس رہنا اور سہنا اس کو مطلوب ہوتا ہے۔اسی سے حسب استطاعت رنگین ہوتا ہے۔حکام اپنے ہم مذاق حکام کے مکانوںپر جاتے۔پس اسی طرح جب انسان کو خدا پر ایمان اور تعلق ہوتا اس کی ربوبیت ‘ پاک ہستی ‘ رحمانیت‘ رحیمیت اور مالکیت پر ایمان ہوتا ہے اور یہ کہ کس طرح یہ ربوبیت کا محتاج ہے اور اس کے محامد کا مطالعہ کرتا ہے تو اس طرف خیال آجاتا ہے کہ میں ایک گند ہ اور ناپاک انسان ہو کر کس طرح اس پاک اور قدوس خدا کے دربار میں منہ دکھلائو ں گا۔جب تک ایک مناسبت انسان میں نہیں ہوتی اس وقت تک دوسرے سے تعلق پیدا نہیں کر سکتا۔جیسے ہمیں اپنے مذا ق کا ہی آدمی پیارا لگتا ہے۔پس تمام نیکیوں کی جڑ اور حصلِ حصول اور خوبیوں کے واسطے عظیم الشان ذریعہ خدا کی شان ہی ہو سکتی ہے۔پولیس ہم کو بدیوں کے ارتکاب سے روکتی پر تما م بد یوں کی جڑ ھ تو دل میں ہوتی اوراس کو جب تک خدا نہ روکے رک نہیں سکتا۔پس اس کی ہستی کا اقرار اور اس پر ایمان اور اس پر یہ یقین کہ اس کو بدیوں اور بداعمالیوں سے پیار نہیں۔گناہ سے بچنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔۲۔پھر انسان کبھی کبھی ایسا بھی بنایا گیاہے کہ ہتک کو پسند نہیں کرتا اور ایک آدمی کے سامنے بھی پسند نہیںکرتا۔میری کیسی فطرت ہے کہ میں نے کہا کہ میری اگر کوئی غلطی ہو تو اس کی پرواہ نہ کرو اور اس سے درگزر کرو۔یہ اسی لئے کہ میری ہتک نہ ہو۔چور چوری کر کے اور کیوں انکار کرتا صرف اس لئے کہ میری ہتک نہ ہو۔پھر بھلا ایک گھر والوں کے سامنے ایک شہر والوں کے سامنے۔پھر ایک تمام ملک کے لوگوں کے سامنے پھر ساری دنیا کے سامنے پھر تمام اولین وآخرین کے سامنے ہماری ہتک ہو اورمقابلہ ہو یہ ہم سے برداشت ہو سکتا ہے ؟ پس کوئی شخص ایسا ایمان رکھ کر کب ایسی ہتک کو پسند کرے گا۔ایک دفعہ میرے ایک دوست نے مجھے سوال کیا کہ جب ہم دوزخ سے سزاپا کر بہشت میں چلے جاویں گے تو کیا حرج ہے کہ کچھ وقت کے لئے اس عذاب کو برداشت کر لیں اور پھر بہشت میں چلے جاویں۔میں نے اس کو جواب دیا کہ ہم اس وقت ایک بازار میں چلے جاتے ہیں اور یہاں ہمارا