خطابات نور — Page 233
گا ہم اس کو تنگ سے تنگ حالت سے فراخی کی راہ بتادیںگے۔رزق کی بھی تکالیف ہوتی ہیں۔اس کے سوائے اور کئی قسم کے مشکلات ہوتے ان سب سے نکالیں گے۔اور رزق وہاںسے دیتا ہوںکہ اس کو خبر بھی نہ ہو۔۵۔(الانفال:۳۰)۔ہم تمہارے مخالفوںکو اڑا دیں گے اور تمہارے لئے راہ نکالیں گے اور دشمن ناکام ہوں گے۔میں نے اپنی عمر میں کبھی تنگی نہیں دیکھی پر اس کی حقیقت کو خوب سمجھتا ہوں۔۱۔پس متقی خدا کا محبوب بنتا۔۲۔علم سیکھتا۔۳۔تنگی سے نجات پاتا۔۴۔کامیاب ہوتا اور اس کے دشمن ناکام ہوتے ہیں۔۵۔رزق لیتا۔۶۔اس کی باتیں قبول ہوتیں۔اب متقی کی حقیقت اور نتائج کو تو تم نے سمجھ لیا۔اب ہم یہ بتلاتے ہیں کہ تقویٰ کیا چیز ہے۔۱۔پہلی جڑ تقویٰ کی خدا پر ایمان لاناہے۔۲۔دوسری جزا وسزا پر ایمان ہے۔۳۔فرشتوں پر ۴۔کتابوں پر ۵۔انبیاء پر ایمان لانا۔ان پانچ جڑوں کی میں تفسیر کرنا چاہتا ہوں جو دل کے متعلق ہے۔دنیا میں بدی بھی ہوتی ہے جس کا نتیجہ دکھ اور نیکی بھی ہوتی جس کا نتیجہ سکھ ہوتا ہے اور اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔بہت سی آہ و فریادیں نالہ وزاری گھر والوں اور پڑوسیوں کو بے قرار کر دیتی ہیں جو دکھ کی وجہ سے ہوتی ہیں ایک وجود ی کو وجع مفاصل کی بیماری ہوئی اور شدید ہوئی تو ایک دن گھبرا کر یہ شعر کہا ان کان منزلتی فی الحب عندکم ماقد لقیت فقد ضعیت ایامی اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تو محبت کی ترنگ میں کہتے ہیں کہ تو میں اور میں تو ہوگیا۔پر اب معلوم ہو گیا کہ تو اور ہے اور میں اور ہوں۔پس ایک ہی چیز سے دکھ اور سکھ پہنچے یہ نہیں ہو سکتا پھر ہر ایک چیز کے اغراض اور اسباب الگ الگ ہوتے ہیں۔دکھ کی جڑھ بدی اور سکھ کی جڑھ نیکی پر ہوتی ہے وہ خواہ کسی علم پر موقوف ہو۔پر خدا کا ماننا بھی بہت سی بدیوں سے روک دیتا ہے۔میںجب کبھی کسی شہر میںجاتا ہوں تو اپنے مذاق کے لوگوں کے پاس جاکرڈیرہ کرتا ہوں۔اس سے یہ نتیجہ نکلاکہ