خطابات نور — Page 223
(۲) عیب عورتوں میں تمسخر کا ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی زبان قابو میں رکھو۔صحابہ نے عرض کیا کیا ہم زبان سے بھی پکڑے <mark>جا</mark>ویں گے۔فرمایا زبان دوزخ میں اوندہا گرا دیتی ہے۔ہنسی ٹھٹھے میں یہ قاعدہ ہے کہ انسان دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے ابلیس کا گناہ تھا یہی کہ (ص : ۷۷)اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایک دوسرے پر ٹھٹھا نہ <mark>کر</mark>و ممکن ہے کہ وہی تم سے اچھا ہو۔زبان کوقابو میں رکھنا بڑی خوبی کی بات ہے۔انسان زبان سے ہی مومن اور زبان ہی سے کافر بنتا ہے اور اسی سے مومن اور اسی سے منافق بنتا ہے۔(۳) تیسری بات ہماری پاک کتاب میں سورہ نور ہے تم میں جو پڑھی ہوئی ہیں وہ پڑھ <mark>کر</mark> <mark>عمل</mark> <mark>کر</mark>یں اور جو پڑھنا نہیں <mark>جا</mark>نتیں وہ دوسریوں سے سن <mark>کر</mark> <mark>عمل</mark> <mark>کر</mark>یں۔اس فضل سے پہلے جو خدا نے مجھ پر مرزا صاحب کے تعلق سے کیا ہے۔میرا مولا پہلے ہی مجھ پر بڑے بڑے فضل <mark>کر</mark>تا رہا ہے جن میں سے ایک یہ فضل تھا کہ میں شاہ عبدالغنی صاحب کا مرید تھا۔انہوں نے فرمایا تھا کہ اہل ہند نے سورہ نور پر <mark>عمل</mark> ترک <mark>کر</mark> دیا ہے بلکہ اپنے لئے اس کو منسوخ ہی سمجھ لیا ہے۔پس تم اس پر ضرور غور <mark>کر</mark>و اس میں سب سے پہلے زنا کی مذمت ہے۔نبی <mark>کر</mark>یم صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر ایک عضو زنا <mark>کر</mark>تا ہے پس انسان ہر ایک عضو کا نگہبان بنے۔خدا تعالیٰ نے اس سورت شریف میں فرمایا ہے کہ زانیہ کی سزا کے وقت نیک لوگ موجود ہوں اور اس پر رحم قریب ہی نہ آوے۔وہاں حضرت صدیقہ کا ذ<mark>کر</mark> فرمایا ہے نبی <mark>کر</mark>یم صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم کی بھی یہی کنواری بی بی ہیں ان کا درجہ میرے نزدیک حضرت خدیجہ سے کچھ بھی کم نہیں۔میں تم کو ایک نمونہ سناتا ہوں یہ ایک ایسی ذہین‘ ذکی اور نبی <mark>کر</mark>یم کے چال چلن پر گہری نظر <mark>کر</mark>نے والی بی بی ہے کہ عقل حیران ہو <mark>جا</mark>تی ہے اس کا ایک ایک لفظ معرفت کا بھرا ہوا اور <mark>جا</mark>مع ہے۔کسی صحابی نے اس بی بی سے پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم تہجد کس طرح پڑھتے تھے۔فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا۔ایک شخص نے اس بی بی سے آنحضرت کی سوانح عمری دریافت کی فرمایا کان خلقہ القران (صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب <mark>جا</mark>مع صلوٰۃ اللیل)یعنی قرآن اگر کوئی قول ہے تو نبی <mark>کر</mark>یم اس کا عامل ہے دیکھو ایک لفظ میں نقشہ کھینچ دیا ہے۔اس بی بی نے امت پر بڑا احسان کیا ہے