خطابات نور — Page 213
قرب الٰہی کے حاصل کرنے کی ضرورت ہے جس سے عرب کی نابودہستی بود ہوکر نظر آئی وہ ذریعہ قرآن کریم ہے کہ جس سے اس کرہ پر ان کو حکمرانی حاصل ہوئی تھی۔اس وقت اس کے بڑے حصہ ایشیااور افریقہ اور یورپ ہی تھے جن کو مخلوق جانتی تھی اور اس قرآن کی بدولت ان معلوم حصص پر ان کی حکمرانی ہوئی مگر اس کے ساتھ ہی اصلی جڑ فضل الٰہی کا سائبان بھی ان پر تھا ورنہ قرآن تو وہی موجود ہے اوراِس وقت اہلِ اسلام کی تعداد بھی اُس وقت سے اضعاف مضاعفہ ہے۔آنحضرت صلعم کے زمانہ میں پڑھے لکھوں کی تعداد ۱۳۵سے زیادہ ہر گز نہ تھی۔خطرناک قوم کے مقابلہ پر سخت جنگ کی حالت میں ۳۱۳سے زیادہ سپاہی نہ تھے۔غزوہ خندق میں ۶۰۰تھے اب باوجود اس کے کہ اس وقت سے بہت بہت زیادہ تعداد موجود ہے مگر وہ بات نہیں ہے نہ وہ عزت نہ آبرو نہ اندرونی خوشی نہ بیرونی۔تو اس بات کی جڑیہ ہے کہ اس زمانہ میں جس وقت فرمان نازل ہوا اس کی قدر کی گئی اس کو دستور العمل بنایا گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ اہل عرب جو اول کچھ نہ تھے پھر سب کچھ بن گئے۔قرآن شریف کے ابتدائی الفاظ میں لکھا ہے (البقرۃ:۳)نبی کریم صلعم نے اس کتاب کا ادب اس طرح سے کیا کہ آپ کے زمانہ میں سوائے قرآن کے اور کوئی کتاب نہ لکھی گئی اس وقت بھی خوش قسمتی سے وہی کتاب موجود ہے۔اگر کوئی اور بھی اس وقت کی لکھی ہوئی ہوتی تو پھر یہ جوش نہ ہوتا یا خدا اور کوئی راہ کھول دیتا۔غرضیکہ اس کتاب کی عزت سے فضل الٰہی کا وہ سایہ قائم ہوا۔جیسے اس وقت تم لوگ آسائش سے بیٹھے ہوسائبان تم پر ہے دھوپ کی تپش سے محفوظ ہو۔اس طرح وہ لوگ جو کہ جنگلوں میں اور دور دراز بلاد میں رہتے تھے۔وہ اس کے ذریعہ سے امن کی زندگی بسر کرنے لگے۔تمام ترقیوںعزت اور حقیقی خوشی کی جڑ یہ کتاب ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہم اس (کرۂ ارض) پر حکمرانی کرتے ہیں۔اور اسی کے ذریعہ سے فضل الٰہی کا سایہ ہم پر پڑ سکتا ہے ، یہ نہ خیال کرو کہ ایرانی سلطنت ایسی راحت میں ہے ہر گز نہیں۔جس قدر وہ اس کتاب سے دور ہے اسی قدر اس میں گند ہے۔مگر تم کو ان باتوں کا علم نہیں ہے۔بڑے بڑے لائق، چالاک اور پھرتی سے بات کرنے والوں کے ساتھ ناچیز ی کی حالت میں میرا مقابلہ ہوا ہے مگر اس قرآن کے ہتھیار سے جب میں نے ان سے بات کی ہے توان کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگ گئیں۔ایک انسان جو کہ بیماریوں میں مبتلا ہو بظاہر تم