خطابات نور — Page 210
چیزیں اندازہ کے ساتھ ہیں۔بد قسمت انسان ہے وہ جو اس بھیدکو نہیں سمجھتا کہ بدی کا نتیجہ بد نہ ملے گا بلکہ اچھا ملے گا۔گندم از گندم بر وید َجو ز َجو کیا عمدہ اور پاک ترجمہ ہے تقدیر کا۔بدی سے نیکی کی امید جھوٹ، جھوٹ ، فریب دھوکہ وغیرہ سے اگر کوئی یقین کرے کہ میں کامیاب ہوا تو وہ بالکل جھوٹا ہے نہیں سمجھتا کہ گندم از گندم بر وید َجو ز َجو۔پنجابی کی خوب مثل ہے کہ جو کوئی آگ کھائے گا انگارہ ہگے گا۔بہلول ہارون رشید کے بھائی تھے مگر امور سلطنت میں دخل نہ دیتے تھے۔ایک دفعہ ہارون رشید نے ان کو کہا کہ آپ ایک بھلا کام کریں۔بازار کی خبر رکھا کرو۔کہا بہتر۔ایک دفعہ کروڑوں کے تاجر کی دوکان پر گئے اور پوچھا کیا حال ہے۔کہا پیسہ روپیہ منافع لیتے ہیں بچہ آوے نادان آوے بوڑھا آوے جوان آوے اس سے زیادہ نہیں لیتے کبھی کوئی نقصان نہیں ہو ا۔لاکھوں کا مال بکتا ہے۔نقد خرید فروخت ہے۔سینکڑوں کا منافع ہے۔دوسری ایک دوکان پر گئے جہاں ہزاروںکی دوکان تھی سوایا منافع لیتے اس میں کچھ قرض بھی بتلایا گیا کہابعض آسامی لچ بھی جاتی ہے بقدر ضرور ت گزارہ ہو تا ہے۔پھر ایک گلی کے چور دوکان پر گئے۔پوچھا سنائو کہا اندھا راجہ بیداد نگر ‘ چار گنہ ‘ آٹھ گنہ ‘بیس گنہ بھی کر لیتے ہیں۔مگر قدر ت خدا کی اگر دن کا ہے تو رات کا نہیں اور اگر رات کا ہے تو دن کا نہیں۔برا حال ہے۔یہ سیر کر کے بہلول ہارون کے پاس گئے کہا ضرور عقائد اور زبان بھی اثر کرتے پر اعمال بھی اپنا پھل دے رہے ہیں میرے اور تمہارے نگرانی کے سوائے بھی لوگ اپنے اپنے اعمال کی جزا سزا پا رہے ہیں۔ہاں اندھے انسان کی نظراس پرنہیں پڑتی۔پس میرے خیال میں تقدیرپر ضرور ایمان ہو۔پھر تدبیر ہوتی ‘ جو تقدیر کے نیچے چلتی ہے پھر جو تدبیر تقدیر کے خلاف ہو وہ کبھی کا رگر نہیں ہوتی مگر یہ بات ضرور مد نظررہے کہ جس کام کو یہ کھل کر علی رء و س الا شیاء نہیں کر سکتا اس میں ضرور کچھ کپٹ ہے۔پھر جو بات دوسروں کی طرف سے ہم اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔چاہئے کہ وہ ہم دوسروں کے لئے بھی ناپسند رکھیں۔میرے دانست میں ان اتفاقات میں کوشش کرنا ہی اس آیت میں ہے (البقرۃ:۱۱۲)ٰ یہود کہتے ہیں ہم