خطابات نور — Page 203
اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ وا شھد ان محمد ا عبدہ ورسولہ امابعد اعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔(البقرۃ:۱۱۲،۱۱۳) یہ دنیا میں ایک رسم ہو گئی ہے کہ جب کوئی شخص کسی تقریر کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو پہلے لوگ اس کی روشناسی کے لئے انٹرو ڈیوس کراتے ہیں۔اور اسی طرح آج بھی کیا گیا ہے پر جس طرح انسان خود روشناسی کرا سکتا ہے اس طرح دوسرے کا کام نہیں۔میں ایک پنجابی آدمی ہوں۔بھیرہ ضلع شاہپور میرا زاد بوم ہے۔میرا نام والدین نے نورالدین رکھا۔خدا کرے یہ نا م سچ ہو۔میری مادری زبان پنجابی تھی لیکن چونکہ زمانہ طالب علمی میں ہندوستان میں بہت رہا ہوں اس لئے اردود بولتا ہوں پنجابی بول نہیں سکتا۔میں سنی مسلمان ہوں مگر ان میں بہت فرقے ہیں۔بہر حال میرے والدین حنفی المذہب تھے انہی میں میں نے علم پڑھا اور ترقی پائی۔اس زمانہ میں حدیث پڑھنے کا شوق ہوا تو دور دور کا سفرکیا مگر ابتدائی بات میرے ساتھ تھی حدیث کو ضرور ترجیح دیتا رہا۔مباحث کا بھی بہت اتفاق ہو ا اور اب اخیر زمانہ عمر میں بھی میں اسی قدیم مذہب پر ہوں اور اسی کے ساتھ مرزا صاحب کا مرید ہوں۔مجھے یہ تو بتلا یا نہیں گیا کہ آپ لوگوں کو کیا سنائو ں اس لئے ایسے موقع پر میں اپنے دلی خیالات کا اظہار کر سکتا ہوں یہ کہنا کہ میرے لیکچر پر بحث کی جائے میں پسند نہیں کرتا بلکہ یہ تو اظہار خیال ہے۔اس سے۔۔۔۔۔۔۔لگ سکے گا کہ آیا میں کچھ باتیں سنانے کے قابل ہوں کہ نہیں۔میں یہاں مباحثہ کے لئے نہیں آیا بلکہ ایک دوست کی علالت ہے کسی کا مجبور کیا ہوا آیا ہوں۔مومن کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ جہاں سے کوئی بھلی بات سنے اس کو لے لے۔میں خوب سمجھتا ہوں کہ نظارہ قدرت میں میرے اپنے اندر اور تمہارے دیکھنے سے مجھے پتا لگتا ہے کہ ہم میں اختلاف بھی ہے اور اتفاق بھی۔اگر اختلاف ہی اختلاف ہو یا اتفاق ہی اتفاق ہو تو کام نہیں چل سکتا۔دیکھو صانع قدرت نے عناصر کو کس طرح رکھا ہے۔گرم کے ساتھ سرد، نمک،