خطابات نور — Page 202
اتفاق اور اختلاف {تقریر فرمودہ اکتوبر ۱۹۰۳ء بمقام کپور تھلہ} سید نا خلیفۃ المسیح اول حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ ۱۹۰۳ء میں برادرم مکرم خانصاحب محمد خاں صاحب مرحوم کی علالت طبع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد سے کپور تھلہ تشریف لے گئے تھے۔جماعت کپور تھلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاص مخلصین کی جماعت ہے اور برادر محمد خاں مرحوم حضرت کے عشق ومحبت میں ایک فانی شخص تھے۔میں نے حضرت خلیفہ اول سے اپنے کان سے سنا کہ وہ محمد خاں مرحوم کی محبت اور عشق کو اپنی محبت کے مقابلہ میں بہت بڑھ کر سمجھتے تھے۔بہر حال وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت میں گداز اور فانی فطرت رکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کی وفات پر خصوصاً افسوس ہوا اور مرحوم محمد خاں کی اولاد حضرت کے ایک خاص نشان کی صور ت میں ممتاز ہے۔یہ داستان دراز اور پُر لطف ہے کسی دوسرے موقع پر انشاء اللہ سنائیں گے۔یہ تقریب تھی حضرت خلیفہ اول کے کپور تھلہ جانے کی۔وہاں کی جماعت نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور حضرت حکیم الامت کی ایک عام تقریر کا اعلا ن کیا۔اس موقع پر جبکہ مختلف مذاہب اور مختلف مذاق کے سر بر آوردہ لوگوں کا ایک مجمع تھا حضر ت خلیفہ اول نے ایک تقریر فرمائی جس کو آج میں قارئین الحکم کے لئے بطور ایک خاص تحفہ کے پیش کرتا ہوں کیوںکہ اس قسم کی تحریر یں بجز ایڈیٹرالحکم کے انشاء اللہ العزیزکسی کو نہیں مل سکتیں اور اس قسم کے نادرات کا ایک بیش قیمت ذخیرہ اس کے پاس ہے۔غرض حضر ت نورالدین ؓ اعظم کی یہ وہ تقریر ہے۔اس موقع پر جماعت کے معزز اور مخلص دوست نے حضرت حکیم الامت کو عام عرف کے موافق انٹر وڈیوس کیا۔حضرت حکیم الامت نے اپنی تقریرکو اسی انٹرو ڈیوس پر ریویوسے شروع کیا۔اس تمہیدی نوٹ کے بعد ناظرین اس کا لطف اٹھائیں۔(ایڈیٹرالحکم)