خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 195 of 660

خطابات نور — Page 195

معبود ہو اسی کی عظمت اور جبروت کا خوف ہو جس سے اطاعت کا جوش پیدا ہو۔ایسی اطاعت اور عبادت روح میں ایک تذلل اور انکساری پیدا کرے گی جس سے سرور اور لذت پیدا ہوگی اور عملی زندگی کو قوت ملے گی لیکن جب اللہ تعالیٰ کی صفات پر کامل ایمان نہ ہوتو اس ایمان میں عملی قوت پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔وہ اس کھائے ہوئے دانہ کی طرح ہوتا ہے جس میں نشوونما پانے کی خاصیت باقی نہیں رہی۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم نماز کے لئے جمعہ کے دن بلائے جاؤ تو بیع کو چھوڑ کر ذکر اللہ کی طرف آجاؤ۔عام جمعوں میں چھوٹی چھوٹی بیع ہے لیکن مسیح موعود کا وقت چونکہ عظیم الشان جمعہ ہے اس لئے اس وقت دجال کا فتنہ بہت بڑی بیع ہے۔اس لئے فرمایا کہ اس کو چھوڑو اور ذکر اللہ کی طرف آجاؤ۔نتیجہ اس کا کیا ہے؟  (الجمعۃ :۱۰)اگر تم کو کچھ علم ہے تو یاد رکھو کہ یہ تمہارے لئے مفید ہے اس میں خیر وبرکت ہے۔تمہارے لئے اللہ تعالیٰ جس امر کو خیر وبرکت کا موجب قرار دیتا ہے اس کو ظنی یا وہمی خیال کرنا کفر ہے۔انسان چونکہ عواقب الامور اور نتائج کا علم نہیں رکھتا اس لئے وہ بعض اوقات اپنی کمزوری علم اور کمی معرفت کی وجہ سے گھبرا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی صحبت میں رہنا یا اس کے پاس جانا اخراجات کو چاہتا ہے یا بعض تجارتی کاموں میں اس سے حرج واقع ہوگا دوکان بند کرنی پڑے گی یا کیا کیا عذر تراشتا ہے لیکن خدا تعالیٰ یقین دلاتا ہے کہ اس کی آواز سنتے ہی حاضر ہو جانا خیر وبرکت کا موجب ہے اس میں کوئی خسارہ اور نقصان نہیں مگر تم کو اس کا علم ہونا چاہیے۔پس اس میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیئے ہاں۔    (الجمعۃ:۱۱) جب نماز ادا کر چکو تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو لو۔اس کا اصل اور گُر یہ ہے اللہ تعالیٰ کو بہت یا د کر ونتیجہ یہ ہو گا کہ تم مظفر و منصور ہو جاؤ گے۔خدا کی یاد ساری کا میابیوں کا راز اور ساری نصرتوں اور فتوحات کی کلید ہے۔اسلام انسان کو بیدست وپابنانا یا دوسروں کے لئے بوجھ بنانا نہیں چاہتا۔عبادت کے لئے اوقات رکھے ہیں