خطابات نور — Page 186
اس کی شان ہے۔مختصریہ کہ ہم محتاج تھے اور قحط زدہ تھے فطرتاًہم چاہتے تھے کہ اس وقت ہماری دستگیری کی جاوے لیکن ہماری صرف صورت سوال تھی اگر ہم میں عقل ہوتی تو زمانہ کی حالت کو دیکھ کر آنے والے کی تلاش کرتے مگر میں پھر بھی اللہ تعالیٰ کے بڑے فضل کا شکریہ کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ٹھوکر نہیں کھانے دی بلکہ میری حفاظت فرمائی۔۱۱؎ کہہ دو! اے یہودیو! اگر تمھیں یہ ناز اور گھمنڈ ہے کہ تم اللہ کے ولی ہو۔تو اگر اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر الموت کی تمنّا کرو۔یہودیوں کو اس لئے خصوصاً مخاطب فرمایا کہ وہ عیسائیوں کے بالمقابل مشکلات میں نہ تھے اور کتاب اللہ کے وارث تھے چونکہ عمل نہ تھا اور دنیوی لذات اور شہوات پر جو عارضی اور فانی تھیں مر مٹے تھے اس لئے گدھے کہلائے۔بایں وہ اس امر کے مدّعی تھے کہ(المآئدۃ :۱۹ )ان کا یہ دعویٰ لوگوں کو حیرت میں ڈالتا تھا اس لئے اس دعویٰ کی صحت اور عدمِ صحت کے لئے اللہ تعالیٰ اب اس طرح پر تحدی کرتا ہے۔عیسائیوں کی طرح مشکلات میں نہ تھے اس سے یہ مراد ہے کہ عیسائی قوم اپنی کتاب کے متعلق خطرناک مشکلات میں مبتلا ہے اوّل حضرت مسیؑح کی کوئی کتاب ہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے اور یہ مشکل بہت ہی خطرناک مشکل ہے پھر دوسر ی مشکل یہ ہے کہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہے اس کے متعلق یہ قطعی اور یقینی فیصلہ نہیں ہے کہ وہ مسیح کے حواریوں کی ہی ہے کیونکہ لوقا اور مرقس کی بابت تو صاف فیصلہ ہے کہ وہ حواری نہ تھے اور یوحنّا کی بابت بھی بہت سے اعتراض ہوتے ہیں اور ان میں الحاقی حِصّے پائے جاتے ہیں پھر یہ دعویٰ نہیں کہ وہ خدا کے الہام اور وحی سے لکھے گئے ہیں پھر تیسری مشکل اور ہے کہ ان میں باہم اس قدر اختلاف ہے جو ان کو پایہ اعتبار سے ساقط کررہا ہے۔…… علاوہ بریں بہت باتیں ان میں ایسی پائی جاتی ہیں جن کی کوئی اصل ہی نہیں۔چہارم یہ مشکل ہے کہ جس زبان میں مسیح نے وعظ کہا تھا وہ عبری زبان تھی ان کی ماں کی بھی یہی بولی تھی چنانچہ مسیح کے آخری الفاظ جو انجیل میں موجود