خطابات نور — Page 183
ہے وہ ان اسباب انکشاف حقائق سے اسی مقدار دنیا طلبی کے فائدے اٹھاتے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔اس وقت ایک قوم دنیا میں موجود ہے جس نے ۲۷ سو زبان میں ایک کتاب کا ترجمہ کیا اور پھر ترجمہ در ترجمہ کر کے بھی کہتے ہیں کہ وہ کلام اللہ ہے اگر پو چھو کہ اس پر عمل کرنا شرط ہے یا نہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ شرط نہیں کیونکہ شریعت لعنت ہے پر سمجھ میں نہیں آتا کہ اس قدر بوجھ کیونکر اٹھایا ہے اس کی غرض ترجمہ کنندہ کی غرض روپیہ ہے پریچر کی غرض اتنی ہی ہے کہ تنخواہ مل <mark>جا</mark>وے یہ قوم اس کی مصداق ہے(البقرۃ:۸۰)۔یہ صاف ظاہر ہے کہ اس قدر زبانوں میں مسیح نے کام نہیں کیا مگر پھر بھی وہ اس کا نام کلام اللہ، کتابِ مقدس رکھا <mark>جا</mark>تا ہے۔پریچروں کو کلامِ الٰہی کے خادم کہا <mark>جا</mark>تا ہے اس سے کس صفائی کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ یَتْلُوْا کی صفت نہیں رہی یہ تو ہے غیر مذہب کے لوگوں کا حال، اپنے گھر میں غورکرو۔۱۰؎ کثرت کے ساتھ وہ لوگ جو علماء کہلاتے ہیں ایسے ملیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ تَبَارَکَ الَّذِیْ یاد ہے اور کچھ نماز جنازہ آ<mark>جا</mark>وے گویا سارے قرآن میں ان کو اتنی ہی ضرورت ہے کہ مُردے یا نئے تعلق نکاح وغیرہ سے کچھ مل <mark>جا</mark>وے۔قرآن کی غرض و غایت ان کے نزدیک صرف اتنی ہی ہے اس سے آگے کچھ نہیں۔مصنفوں کو دیکھو کتابیں لکھتے ہیں۔مطلب صرف اتنا ہے کہ کچھ فائدہ ہو ان اسفار کا نتیجہ گدھے کی طرح ہے جو فوائد قلیلہ کے لئے اس قدر بوجھ اٹھاتا ہے کیا بُری مثال ہے وہ <mark>جا</mark>مع اخلاق انسان جو صفاتِ عالیہ کا وارث ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل و رحم کا وارث بن سکتا ہے وہ انسان جس کا خدا اللہ ہے اور بچھڑا نہیں وہ اس بات پر ایمان لایا ہے کہ اخلاقِ فاضلہ کے حاصل کرنے منشاء زندگی کو معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی معلّم آئے جو مزکّیہو اور تالی آیات اللہ کا ہو۔مجھے اس آیت نے بارہا متأثر بنایا ہے(طٰہٰ :۹۰) وہ معبود کیسا ہو سکتا ہے جو کسی کی بات کا