خطابات نور — Page 168
صاف بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور انسانی مخلوق کبھی برابر نہیں ہو سکتی۔یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ جو کچھ انسان بناتا ہے خدا وہ کبھی نہیں بنا تا اور جو اللہ تعالیٰ بناتا ہے انسان وہ ہرگز نہیں بنا سکتا۔مثلاً ایک تنکا ہی لو۔ساری دنیا کے صنّاع اور فلاسفر مل جاویں اور کوشش کریں ساری عمر جدو جہد کریں کبھی ممکن ہی نہیں کہ ایک تنکا بنا سکیں گھاس کا تنکا یا دانہ کا ذرہ نہیں بنتا پھر یہ خیال کر لینا اور مان لینا کہ مسیح بھی خدا تعالیٰ جیسی مخلوق بنا سکتا تھا کیسی بیہودگی ہے۔دیکھو خدا تعالیٰ کی مخلوق ہے غلہ انسان نہیں بنا سکتا۔انسان اپنی صنعت سے روٹی بنا تا ہے خدا تعالیٰ کی غیرت کبھی پسند نہیں کر سکتی کہ وہ درختوں سے روٹیاں نکالے۔کپڑے خدا تعالیٰ نے نہیں بنائے اسی طرح پر روئی انسان نہیں بنا سکتا۔اس سے کیمیا گروں کی حماقت اور فریب کا ایک ثبو ت ملتا ہے اور کس طرح واضح طور پر ان کی تکذیب ہوتی ہے سونا چاندی اور چاندی سونا نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے (الشورٰی:۱۲)۔کیا کوئی ہاتھی کے بچہ کو چوہا کہہ سکتا ہے ؟ اور کیا ہو سکتا ہے کہ مکھی کے انڈے سے گھوڑا نکل آوے ؟ ان امور کا سمجھنا آسان نہیں گو یہ بدیہی باتیں ہیں مگر ایک مزکّی جب تک موجود نہ ہو وہ انسان کو اس قسم کے شرک سے نجات نہیں دے سکتا۔ایک وقت آئے گا کہ لوگ کہیں گے کہ کیا وفات مسیح کا مسئلہ بھی کوئی اہم مسئلہ تھا لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی اہمیت کس قدرہے ؟ ایک دنیا کو اس نے تباہ کر دیا ہے اور ربّ العالمین کے عرش پر ایک عاجز ناتواں انسان کو بٹھا یا گیا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کے اسماء ، صفات اور افعال کے متعلق سچا علم بخشنا اس شخص کا کام ہوتا ہے جو آیات اللہ کی تلاوت کرے اور اپنی قدسی تاثیر سے تزکیہ کرے اور سچی توحید پر قائم کرے جب تک مزکّینہ ہو یہ سمجھ میں نہیں آسکتا کہ اس جہاں کا پیدا کرنے والا ربّ العالمین ایک ہے اور اس کا کوئی بیٹا نہیں جس کے بغیر نجات عالم ہی نہ ہو سکتی ہو جیسا کہ عیسائیوں نے مان رکھا ہے۔تعجب ہے کہ وہ خلق عالم تو اللہ تعالیٰ کی صفت مانتے ہیں پھر اس مخلوق عالم کو کیا مشکل تھا کہ نجات