خطابات نور — Page 158
ضرورت ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مامور کے آنے کا وقت صاف بتا دیا ہے جبکہ فرمایا۔ٍ اس کی آمد اور بعثت سے پہلے ایک کھلی گمراہی پھیلی ہوئی ہوتی اور میں نے ابھی تمہیں بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دنیا کی کیا حالت تھی اور پھر کس طرح آپ نے آکر اس کی اصلاح کی اور تزکیہء ِ نفوس فرمایا۔جو لوگ علم تاریخ سے واقف ہیں ان پر یہ امر بڑی صفائی کے ساتھ منکشف ہوسکتا ہے اس سے بڑھ کر تزکیہء ِ نفوس کا کیا ثبوت مل سکتا ہے کہ آپ نے کوئی موقع انسان کی زندگی میں ایسا جانے نہیں دیا جس میں خدا پرستی کی تعلیم نہ دی ہو۔میں ایک چھوٹی سی اور معمولی سی بات پیش کرتا ہوں پاخانہ کے لئے جانا ایک طبعی تقاضا اور ضرورت ہے میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس وقت کے لئے کسی ہادی اور مصلح نے کوئی تعلیم انسان کو نہیں دی مگر ہمارے ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بھی انسان کو ایک لطیف اور بیش قیمت سبق خدا پرستی کا دیا ہے جس سے آپ کے ان تعلقات محبت کا جوخدا سے آپ کے لئے تھے صاف پتا لگ سکتا ہے اور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ انسان کو کس بلند رتبہ پر پہنچانا چاہتے تھے چنانچہ آپ نے اس وقت تعلیم دی ہے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ (صحیح البخاری، کتاب الوضوء ،باب ما یقول عند الخلاء )یعنی جس طر ح پر ان گندگیوں کو تو نکالتا ہے دوسری گندگیوں سے جو انسان کی روح کو خراب کرتی ہیں بچا۔جیسے پاخانہ جاتے وقت دُعا تعلیم کی ویسے ہی پاخانہ سے نکلتے وقت سکھایا ہے غُفْرَانَکَ (سنن ترمذی ،ابواب الطھارۃ،باب ما یقول إذا خرج من الخلاء)۔غور تو کرو کہ کس قدر تزکیہ نفس کا خیال ہے حضرت ابو الملۃ ابوالحنفاء ابراہیم علیہ السلام اپنی دُعا میں کہتے ہیں (البقرۃ :۱۳۰) پھر اگر مزکّی کی ضرورت نہ تھی تو اس دُعا کی کیا ضرورت۔تلاوت کو اس لئے مقدم رکھا ہے کہ علم تزکیہ کے مراتب سکھاتا ہے اور تزکیہ کو بعد میں اس لئے رکھا ہے کہ بدوں تزکیہ علم کام نہیں آتا اس لئے کتاب کے بعد تزکیہ کا ذکر کر دیا۔اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خیر القرون قرنی(تفسیرکبیررازی