خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 157 of 660

خطابات نور — Page 157

تھے اس سے قیا س کر لو کہ آپ کو کس قدر التزام کرنا پڑتا تھا پھر ان پانچوں نمازوں کے علاوہ تہجد اور دوسرے نوافل بھی پڑھتے اور بعض وقت تہجد میں اتنی اتنی دیر تک اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے رہتے کہ آپ کے پائے مبارک متورّم ہو جاتے جس سے آپ کا یہ التزام بھی پایا جاتا ہے کہ عام اور فرض نمازوں سے زیادہ بوجھ آپ نے اپنے اوپر رکھا ہوا ہے۔پھر روزہ کی تعلیم دی آپ نے ہفتہ میں دوبار مہینہ میں تین روزے اور سال بھر میں معیّن مہینہ روزے رکھ کر دکھا دئیے اور شعبان او ر شوال بھی روزے رکھا کرتے گویا قریباً چھ مہینے سال میں روزے رکھ کر بتا دیئے۔حج کر کے دکھا دیا خُذُوْا عَنِّیْ مَنَاسِکَکُمْ (تفسیر کبیررازی۔سورۃ البقرہ آیت ۱۵۹)پھر زکوٰۃ کی تعلیم دی۔زکوٰۃ لے کر اور خرچ کر کے دکھا دی اسی طرح جو تعلیم دی اسے خود کر کے دکھا دیا جس سے تزکیہء ِنفوس ہوا۔ایک طرف تلاوت آیات کرتے تھے اور دوسری طرف تزکیہء ِ نفوس کرتے تھے۔امام ابوحنیفہ ابھی امام نہ تھے مگر نماز روزہ حج زکوٰۃ کے مسائل جانتے تھے امام بخاری بھی امام ہونے سے پہلے نماز روزہ کرتے تھے ؟ کیوں اس لئے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تعامل سے سب کچھ پہلے ہی سکھا دیا ہوا تھا اگر ایک بھی حدیث دنیا میں قلم بند اور جمع نہ کی جاتی تب بھی یہ مسائل بالکل صاف تھے۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل کے لئے مزکّی کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ بڑی بڑی کتابوں والے عبدالطاغوت ہو جاتے ہیں اور جب یہ حالت پیدا ہوتی ہے اور قوم کے دماغ اور دل (علماء اورمشائخ) کی حالت بگڑ جاتی ہے اس وقت وہ مزکّیآتا ہے اور اصلاح کرتا ہے۔جب قوم اور ملک ضلالِ مبین میں پھنس جاتا ہے تو ایک انسان خدا سے تعلیم پاکر آتا ہے جو قوم کو نجات دیتا ہے اور تزکیہء ِ نفس کرتا ہے۔خیالی ریفارمروں اور جھوٹے دعویداروں اور خدا تعالیٰ کے مامورو مرسلوں میں بھی امتیاز اور فرق یہی ہوتا ہے کہ اول الذکر کہتے ہیں پر کر کے نہیں دکھاتے اور تزکیہء ِ نفس نہیں کر سکتے مگر خدا کے مامور اور مرسل جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں جس سے تزکیہء ِ نفس ہوتا ہے ان کے قلوب صافیہ سے جو کچھ نکلتا ہے وہ دوسروں پر مؤثر ہوتا ہے ان میں جذب اور اثر کی قوت ہوتی ہے جو دنیا دار ریفارمر وں میں نہیں ہو سکتی اور نہیں ہوتی اور نہیں ہوئی۔پس اس نافہم کے سوال کا جواب اس سے بخوبی حل ہو سکتا ہے جوکہتا ہے کہ کسی کے آنے کی کیا