خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 156 of 660

خطابات نور — Page 156

مہدی یا مسیح یا امام کی کیا ضرورت رکھتے ہیں جبکہ دلائل سے نتائج تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر امام کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے ان سے پوچھا ہے کہ اگر تمہیں امام کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو اتنا بتاؤ کہ کتاب کی موجودگی میں معلّم کی کیا ضرورت ہوتی ہے ؟ اگر کہو بولی کے لئے ضرورت ہے تو پھر میں کہتا ہوں اچھا بولی سمجھتے ہو ؟ ایک عمدہ پڑھا ہوا آدمی جس نے قرآن کو خوب پڑھا ہے اور فرض کرو وہ قاری بھی ہو وہ اپنی جان پر تجربہ کر کے صاف صاف بتاوے کہ گھر میں لمبی قراء ت کی نمازیں کس قدر پڑھتا ہے ؟ اور باہر کس قدر؟ جس قدر جماعت میں التزام کیا جاتا ہے کیا گھر میں بھی ویسا ہی التزام کیا جاتا ہے؟ لیکن جب دیکھا جاتا ہے کہ باوصفیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب نماز پڑھائے تو امام کو چاہیے کہ مقتدیوں کا لحاظ کرلے ان میں کوئی ضعیف ہے کوئی بیمار ہے وغیرہ اس لئے ان کے لحاظ پر چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھے لیکن تنہائی میں نمازوں کو لمبا کرے مگر غور کر کے دیکھ لو کہ معاملہ بالکل اس کے برخلاف ہے اور قضیہ بالعکس ہے میں نے بہت ٹٹولا ہے اور دیکھا ہے کہ جبکہ یہ حدیث صحابہ تک پہنچتی ہے اور کذب کا کوئی احتمال نہیں رہتا تو پھر عمل درآمد کا نہ ہونا صریح اس امر کی دلیل ہے کہ ایک قوت اور کشش کی ضرورت ہے جو نہیں پائی جاتی۔ریل گاڑی کی گاڑیوں کو دیکھو اگر ان میں باہم زنجیروں کے ذریعہ پیوند بھی قائم کیا گیا ہو لیکن سٹیم انجن ان کو کھینچنے والا نہ ہو تو کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ وہ گاڑیاں باہم ملاپ کی وجہ سے ہی چل نکلیں گی؟ ہر گز نہیں اس سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ نرا اتحاد بھی کچھ نہیں کر سکتا جب تک اس وحدت کے مفاد سے متمتع کرنے والاکوئی نہ ہو۔غرض ہر حال میں ایک امام کی ضرورت ثابت ہوتی ہے اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا کہ وَجو کچھ آپ فرماتے اور تلاوت کرتے وہی کر کے بھی دکھا دیتے اور اپنے عمل سے اس کو اور بھی مؤثر بنا دیتے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ واعظ اگر خود کہہ کر عمل کرنے والا نہ ہو تو اس کا وعظ بالکل بے معنی اور فضول ہو جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی لئے مزکّیٹھہرے کہ آپ جو تعلیم دیتے تھے پہلے خود کر کے دکھا دیتے تھے پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا اور خود پڑھ کر دکھا دی۔دیکھو امام کو کس قدر التزام کرنا پڑتا ہے پھر آپ پانچوں نمازوں کے خود امام ہو ا کرتے