خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 12 of 660

خطابات نور — Page 12

کا کام علی مرتضی سے لیا۔آپ دیکھیں گے کہ اولیاء کے کمالات میں تمام متعارف سلسلے اپنے اپنے سلسلہ کو حضرت علی تک ہی پہنچاتے ہیں ہمارے امام کی سوانح عمری میں ابھی آپ نے سنا ہو گا کہ روحانی کمالات میں اہل بیت تک پہنچتے ہیں۔المختصر خدا تعالیٰ نے ان انوار محمدیہ کو مختلف طور پر آپ کی امت میں پھیلایا۔اب میں پھر اس وعدہ الٰہی کی طرف آتا ہوں اس وعدے کے پورا ہونے میں ایمان اور اعمال صالحہ کی شرط ہے اور یہ وعدہ کوئی خاص وقت اور زمانے کے لئے نہیں تھا بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے۔جوں جوں ایمان اور اعمال صالحہ میں کمزوری ہوتی گئی اور نبوت کے زمانہ پر عرصہ گزرتا گیا اسی قدر کمزوری اور تفرقے اسلام میں پیدا ہوتے چلے گئے۔یہاں تک کہ وہ زمانہ آگیا جو ہمارا زمانہ ہے۔شامت اعمال اور تفرقہ باہمی سے اگر شوکت اسلام کمزور ہوئی تو خیر! اس پر بھی صبر کیا گیا لیکن افسوس تو یہ ہے کہ روحانی سلطنت بھی باقی نہ رہی۔بلکہ دونوں طرف آرا چلا۔مخالفان دین کو دیکھو کہ کیسی سر توڑ کوششیں اس کے مٹانے میں کر رہے ہیں۔اگر دین ان کے ہاتھ میں ہوتا تو آج تک کا نیست ونابود ہو گیا ہوتا۔ہاں خدا تعالیٰ ہی کا فضل وکرم ساتھ نہ ہوتا تو مسلمانوں نے بھی کوئی دقیقہ اس کے مٹانے میں باقی نہیں رکھا تھا۔چرچ آف انگلینڈ سالانہ چھتیس کروڑ روپیہ اشاعت عیسویت میں خرچ کرتا ہے اور اس سے بجز اس کے کچھ غرض نہیں کہ تخریب اسلام ہو۔ادھر مسلمان ہیں کہ بے فکر خواب غفلت میں استراحت کی نیند سمجھ کر سو رہے ہیں۔ان کے نزدیک کوئی دہریہ ہو جاوے آریہ یا بے دین ہو جاوے کچھ پرواہ ہی نہیں۔میرے کانوں میں اب تک ایک صدا گونجتی ہے۔کسی شخص کا بھائی مسلمان ہو گیا اس نے کہا کہ کاش وہ دہریہ ہو جاتا! اسلام پر جہاں ایک طرف بیرونی اور خارجی دشمنی میں آریہ، برہمو، عیسائی، دہریہ، طبعی، فلسفی اور کیا کیا سینکڑوں قسم کے لوگ حملہ آور ہو رہے تھے وہاں اندرونی مخالفت کے لئے بھی بہت سے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔جنہوں نے اپنے خیالات کو اپنا رہبر قرا ردے لیا اور اسلام سے غرض واسطہ ہی نہیں رکھا۔بلکہ اپنے خیالات کو سچا ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کی اصلی تعلیمات پر گستاخانہ حاشیے چڑھانے شروع کر دئیے بیرونی دشمنوں نے تو تخریب دین کے لئے کوئی دقیقہ