خطابات نور — Page 154
ہوئے ٹھو ڑی کے بل گر پڑتے ہیں اوران کو فروتنی میں ترقی ملتی ہے اور (الفرقان :۶۵)اپنے خدا کے سامنے سجدہ اور قیام میں رات کاٹ دیتے ہیں (السجدۃ:۱۷) راتوں کو اپنی خوابگاہوں اور بستروں سے اُٹھ اُٹھ کر خوف اور اُمید سے اپنے ربّ کو پکارتے ہیں پھر یہاں تک ان کا تزکیہ کیا کہ آخر(المجادلۃ:۲۳)کی سند ان کو مل گئی کسی ہادی اورمصلح کی ایسی سچی تاثیر اور تزکیہ کا پتہ دو۔میں نے ہزاروں ہزار کتابیں پڑھی ہیں اور دنیا کے مختلف مذاہب کو ٹٹولا اور تحقیق کیا ہے میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی حیرت انگیز تبدیلی کوئی ہادی ، پیغمبر ، نبی ، رسول اپنی قوم میں نہیں کر سکا جو ہماری سرکار نے کی ہے اللّٰھم صل علی محمد وعلی اٰل محمد وبارک وسلم۔یہ چھوٹی سی بات نہیں یہ بہت بڑی عظیم الشان بات ہے۔اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی اور تاثیر افاضہ برکات کا ایک زندہ نمونہ موجود ہے جس سے آپ کی شان اور ہمت اور علو مرتبت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ تیرہ سو سال کے بعد بھی اپنی تاثیر یں ویسی ہی زبردست اور قوی رکھتا ہے جس سے ہم ایک اربعہ متناسبہ کے قاعدہ سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اس کی تاثیریں ابدی ہیں اور وہ ابد ا لآباد کے لئے دنیا کا ہادی اور رسول ہے۔اس وقت ہمارا امام زندہ نمونہ ہے ان برکات اور فیوض کا جس نے آکر ان فیوض اور برکات اور قدسی تاثیروں کا ثبوت دیا ہے جو صحابہ کی کامیاب قوم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فیض صحبت سے ہوئیں اگر دنیا میں کسی اور نبی کے برکات اور فیوض اس قسم کے ہیں تو پھر ان کے ماننے والوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی قوم کا تزکیہ کیا تھا تو اس کے ثبوت کے لئے آج کوئی مزکّینفس پیش کرو۔اوروں کو جانے دو یسوع مسیح کو خدا بنانے والی قوم اس کی خدائی کا کوئی کرشمہ اب ہی دکھائے مگر یہ سب مُردہ ہیں جو ایک مُردہ کی پرستش کرتے ہیں اس لئے وہ زندوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے غرض دوسرا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ وہ آیات جو آپ نے پڑھ کر سنائیں اپنے عمل سے اور اس کی تاثیروں سے بتا دیا کہ اس کا منشا کیا ہے؟ منشا بھی بتا دیا اور عمل کرا کر بھی دکھا دیا۔کیونکہ کتاب کا پڑھنا اور اس کے مطالب و منشا سے آگاہ کر دیناکوئی بڑا کام نہیں جب تک کوئی