خطابات نور — Page 146
احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم جمعرات کو بھی عشاء کی پہلی رکعت میں اس کو پڑھا کرتے تھے۔پس ہر ہفتہ میں دو بار جہری قراء ت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورۃ کو پہنچایا ہے اس سے صاف پایا جاتاہے کہ ہمارے سید ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر اہتمام اس سورۃ کی تبلیغ میں تھا۔پس مسلمانوں کو لازم ہے کہ وہ اس سورہ شریف پر بہت بڑی غور وفکر کریں اور میں تمھیں پکار کر کہتا ہوں کہ اَفَـلَا یَتَدَبَّرُوْنَ۔میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس التزام اور اہتمام پر نظر کر کے اس سورہ شریف پر خاص غور کی ہے یوں تو قرآن شریف میری غذا اور میری تسلی اور اطمینان کا سچا ذریعہ ہے اور میں جب تک ہر روز اس کو کئی مختلف رنگ میں پڑھ نہیں لیتا مجھے آرام اور چین نہیں آتا۔بچپن ہی سے میری طبیعت خدا نے قرآن شریف پر تدبّر کرنے والی رکھی ہے اور میں ہمیشہ دیر دیر تک قرآن شریف کے عجائبات اور بلند پروازیوں پر غور کیا کرتا ہوں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس قدر اہتمام اس کی تبلیغ میں کیا ہے اس نے مجھے اس سورہ شریف پر بہت ہی زیادہ غور اور فکر کرنے کی طرف متوجہ کیا اور میں نے دیکھا ہے کہ اس سورہ شریف میں قیامت تک کے عجائبات سے آگاہ کیا گیا ہے۔بڑے بڑے عظیم الشان مقاصد جو جمعہ میں رکھے گئے ہیں ان سے آگا ہ کیا ہے میرا اپنا خیال نہیں نہیں ایمان بلکہ اس سے بھی بڑھ کر میں کہتا ہوں میرا یقین ہے اور میں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ وہ ٹھوکریں جو اس عظیم الشان جمعہ (منجملہ ان کے مسیح موعود کے نزول کا مسئلہ بھی ہے)میں لوگوں کو لگی ہیں وہ اسی عدم تدبّر ہی کی وجہ سے لگی ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس التزام پر عمیق نگاہ کی جاتی اور اس سورۃ پر تدبّر ہوتا تو میں کہہ سکتا ہوں کہ بہت کم مشکلات ان لوگوں کو پیش آتیں۔غرض یہ سورۃ اپنے اندر لا انتہا حقائق اور عجائبات رکھتی ہے اور قیامت تک کے واقعات کو بیان کرتی ہے جن پاک الفاظ سے اس کو شروع کیا گیا ہے اگر کم از کم ان الفاظ پر ہی غور وفکر کی جاتی تو مجھے امید ہوتی ہے کہ اسماء الٰہی میں تو کم از کم ٹھوکر نہ لگتی۔وہ پاک الفاظ جن سے اس سورہ کا شروع