خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 147 of 660

خطابات نور — Page 147

شروع ہوتا ہے یہ ہیں۔ِ  (الجمعۃ:۲) جو کچھ زمین وآسمان میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں ا س اللہ کی جو الملک ہے القدوس ہے العزیز ہے اور الحکیم ہے۔تسبیح کیا ہوتی ہے ؟سورہ بقرہ کے ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کی زبان سے بتایا ہے  (البقرۃ:۳۱) قرآن شریف میں جہاں تسبیح کا لفظ آیا ہے وہاں کچھ ایسے احسان اور انعام مخلوق پر ظاہر کئے ہیں جن سے حمد ہی ظاہر ہوتی ہے اور ان احسانا ت اور انعامات پر غور کرنے کے بعد بے اختیار ہو کر انسان حمد الٰہی کرنے کے لئے اپنے دل میں ایک جوش پاتاہے ہمارے پاک سیّد ومولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فرمایا ہے۔   (بنی اسرائیل:۲) اور پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ارشاد ہوتا ہے  (الأَعلٰی:۲) غرض جہاں جہاں ذکر آیا ہے خدا کے محامد بزرگیاں اور عجیب شان کا تذکرہ ہوتا ہے تو اس سورہ کو جو یُسَبِّحُ لِلّٰہِ سے شروع فرمایا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محامد اور انعامات اور احسانات اور فضل عظیم کا تذکرہ یہاں بھی موجود ہے ہر چیز جو زمین اور آسمان میں ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے یہ ایک بدیہی اور صاف مسئلہ ہے نادان دہریہ یا حقائق الاشیاء سے ناواقف سوفسطائی اس راز کو نہ سمجھ سکے تو یہ امر دیگر ہے مگر مشاہدہ بتا رہا ہے کہ کس طرح پر ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی تقدیس اور تسبیح بیان کر رہا ہے دیکھو ایک لَو جو زمین سے نکلتی ہے بلکہ میں اس کو وسیع کر کے یوں کہہ سکتا ہوں کہ وہ پتّا جو بول وبراز میں سے نکلتا ہے کیسا صاف شفاف ہوتا ہے کیا کوئی وہم وگمان کر سکتا تھا کہ اس گندگی میں سے اس قسم کا لہلہاتا ہوا سبزہ جو آنکھوں کو طراوت دیتا ہے نکل سکتا ہے ؟ اس پتّا کی صفائی‘ نزاکت اور نظافت خود اس امر کی زبردست دلیل اور شہادت ہے کہ وہ اپنے خالق کی تسبیح کرتا ہے۔اسی طرح پر ذرا اور بلند نظری سے کام لو اور دیکھو کہ انسان کے جس قدر عمدہ کام ہیں وہ روشنی میں کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے جتنے عجائبات ہیں وہ سب پردہ میں ہوتے ہیں اور پھر کیسے صاف کیسے دل خوش کن