خطابات نور — Page 10
معنے دیتا ہے یعنی ہم اسی زمین میں خلیفہ بنا کر دکھائیں گے۔کیونکہ پہلوں کو بھی بنایا تھا اور یہ نرا دعویٰ ہی دعویٰ نہ رہے گا بلکہ یعنی یہ دین اسلام جو ان کے لئے میں پسند کر چکا ہوں اس کی اشاعت کی ان کو قدرت دوں گا کہ وہ حامی دین ہوں اور دین ان کے سبب سے قدرت اور مکانت حاصل کرلے ۔اب جو ڈرتے ہیں کہ ان کی جان ومال پر حملہ ہو رہا ہے ہم وہ وقت لانے والے ہیں اس کے بدلے میں کہ خوف امن سے بدل جاوے۔اب دیکھنا یہ واجب ہے کہ یہ مواعید الٰہی کس طرح جلوہ گر ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے مقابلہ میں عرب کا سارا ملک اٹھ کھڑا ہوا تھا لیکن کوئی ہم کو بتلائے کیا ہمارے ہادی بلکہ ہادی انام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم میں نہیں نہیں آپ کے مولد مسکن اور آپ کے ملک میں آپ کا کوئی دشمن رہا ؟ دشمن کیسے؟ ان کے آثار اور نشان تک نہ رہے اور جس طرح پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا پورا ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے کوچ کرتے ہی ایک عالمگیر شور برپا ہو گیا اور عرب کے ہر چہار گوشوں میں ایک زلزلہ سا آگیا۔بعض نے جو دل کے کمزور اور ایمان میں ناتواں تھے یہ سمجھ کر کہ اب یہ کارخانہ ہی ختم ہوا اس سے انکار ہی کر دیا اور بعض نے زکوٰۃ وغیرہ ضروریات دین سے انکارکر دیا بعض نے صرف توحید ہی کو اصل مقصد اور غرض سمجھ لیا۔غرض جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات منقلبین علی الاعقاب اور شاکرین دو فریقوں کے ہو جانے کی پیشگوئی خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرما چکے تھے پوری ہو گئی۔اس عظیم الشان زلزلہ میں ارتداد ،بغاوت اور فتنہ عظیم برپا ہوا اور قریب تھا کہ یہ حالتیں اسلام کا نام ونشان تک مٹا دیتیں اگر اللہ تعالیٰ کا زبردست ہاتھ اس کا حامی نہ ہوتا۔اب دیکھو کہ خدا تعالیٰ کا وہ زبردست وعدہ کہ ۔اس وقت میں کیسا سچا ثابت ہوا کہ متزلزل عرب کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ٹھہرا دیا۔اسلام کی عظمت اور شوکت کو پھر از سر نو قائم کیا اور کمالات اسلام کو تازہ کیا۔حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت سخت معرض خطر میں تھی بلکہ خود ان کے باپ کو تعجب تھا کہ کیونکر ان کی خلافت کو ایسے فتنہ عظیم میں تسلیم کر لیا گیا ہے اصل بات یہ ہے کہ (آل عمران :۴۱)