خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 125 of 660

خطابات نور — Page 125

جس سے اس راہ حق پر ہم پہنچ سکیں۔دیکھو یہ تو ایک مانی ہوئی بات ہے کہ دکھ دینے والی چیزوں میں سے خانہ جنگیاں اور تفرقے بھی ہیں کوئی گھر اور بستی جب کہ اس میں اختلاف اور پھوٹ ہو کبھی آباد نہیں رہ سکتی۔بڑے سے بڑا دکھ جو انسان کو مشکلات اور مصائب میں ڈالتا ہے پریشانی اور پراگندگی ہے اور یہ ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جس کے مریض کو سخت درد اور دکھ کا سامنا ہوتا ہے۔اب اس مرض کا علاج جو بتلائے اور وہ کارگر اور مفید اور مجرب ثابت ہو اس کی صداقت اور حذاقت میں کیا کلام ہو سکتا ہے اور یہ ایک مسلّم بات ہے کہ نبی کریم صلعم کے آنے سے پیشتر عرب کی حالت وحدت اور امن کے لحاظ سے کیسی خطرناک تھی ان میں بہت بڑی عداوت پھیلی ہوئی تھی ذرا ذرا سی بات پر خاندانوں کے خاندان کٹ مرتے تھے اور اس کو سب محسوس کرتے تھے کہ یہ بہت خطرناک شئ ہے۔صحابہ اس کو محسوس کرتے تھے یا نہیں؟ ضرور کرتے تھے پس ان کو بتلایا کہ  (اٰل عمران :۱۰۴) تم تو آپس میں جانی دشمن تھے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا ایک بد یہی نتیجہ تو یہ ہوا کہ تمہارے دلوں میں ایسی محبت والفت ڈالی گئی کہ تم بھائی بھائی ہو گئے۔رات کو دشمن سوئے تھے تو صبح کو بھائی بن کر اٹھے۔کس قدر حیرت انگیز تبدیلی اور تعجب میں ڈال دینے والی بات ہے ان سالہا سال بلکہ صدیوں کی خانہ جنگیوں کو دور کر دینے والی صرف ایک ہی بات تھی یا کچھ اور۔اور وہ یہ تھی کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر آکے توبہ کرتے۔وہ توبہ کچھ ایسی تھی اور اس ہاتھ میں کچھ ایسی شفا رکھی گئی تھی کہ جو آتا اس کی تمام اندرونی بیماریاں صاف ہو جاتی تھیں اور بجائے اُس کے پاکیزہ خیالات اور سکھ دینے والی باتیں آبستی تھیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدسی قوت نے بڑے بڑے سوچنے والے لوگوں کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔غرض یہ ایک بڑی بھاری شناخت صادق کی ہے کہ وہ ایک وحدت کی روح اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔اس وقت بھی ہزاروں ہزار مولوی‘ سجادہ نشین، صوفی، مشائخ موجود ہیں اور بیشمار کتابیں بھری پڑی ہیں مگر دیکھو کہ کیا ان سب میں باہم اتحاد اور یگانگت ہے۔ایک دوسرے پر کفر کے فتوے دئیے جا رہے ہیں اگر ایک شہر کے علما کو بھی دیکھو تو معلوم ہو گا کہ ان میں باہم اتحاد نہیں ہے پھر دین کو دنیا