خطابات نور — Page 124
اور شک کی گنجائش ہے کہ کسی نے دھوکا ہی نہ دیا ہو۔اس مشکل کی راہ صاف کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے چند ضروری امور کو بیان فرمایا ہے جن سے آدمی حق و باطل میں فی الفور امتیاز کرلیتا ہے۔میں اس کو ایک عام فہم طریق پر بیان کرنا چاہتا ہوں۔سنو! ہر ایک چیز خواہ وہ دکھ دینے والی ہو یا سکھ دینے والی دونوں کو ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا پاتے ہیں۔اگر تریاق کو پاتے ہیں تو سانپ بھی تو ہیں اگر عمدہ عمدہ دوائیں اور تجربہ کار ڈاکٹر اور حاذق طبیب موجود ہیں تو مہلک بیماریاں اور ناتجربہ کار احمق مدعی حکمت بھی پائے جاتے ہیں اور عمدہ عمدہ غلہ اور ترکاریاں پائی جاتی ہیں تو اپنے گھروں میں سنڈاس اور پیشاب بھی ہے اور کب اختیار میں ہے کہ دونوں چیزوں کو یکساں طور پر استعمال کرکے سکھ اٹھا سکیں۔آپ دیکھیں گے کہ دکھ یا سکھ دینے والی چیزوں میں باہم فرق کرکے ان کو الگ کردیا گیا ہے۔ایک کانٹا دکھ دیتا ہے لیکن ایک عمدہ اور مضبوط جوتا اس کو مسل دیتا ہے۔پس کانٹوں سے سکھ دینے کے لئے ہم سمجھتے ہیں کہ جوتا عمدہ چیز ہے اور سردی کی تکلیف میںسنجاب اور سمور اور پشمینہ اور روئی کے لحاف کیسی آرام دہ چیزیں ہیں جو سردی کا مقابلہ کرسکتی ہیں اور ہم خوب سمجھ سکتے ہیں کہ یہ چیزیں سردی سے محفوظ رکھ سکتی ہیں نہ کہ برف اور اس پر سرد ہوا۔اسی طریق پر اللہ تعالیٰ نے روحانی سکھوں اور ابدی راحتوں کا ذریعہ جب کہ اپنا فرمان اور رضا کا حصول رکھا ہے اور وہ بدوں ان لوگوں کے جو اس کی طرف سے آتے ہیں ظاہر نہیں ہوتی اس کی شناخت کے اسباب بھی ضرور ہی رکھ دئیے ہوں گے تا کہ سچ اور جھوٹ میں صاف تمیز ہو سکے جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور اس لئے آتے ہیں کہ ہم کو اس راہ کاپتا دیں جس پر چلنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاتا ہے ان میں اور اس مخلوق میں جو بچھوؤں سانپوں کی طرح دکھ دینے کو تیار رہتی ہے امتیاز اور تفریق کے ذریعے رکھ دئیے ہیں جن سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ راستباز کون ہے اور جھوٹا کون ہے؟ مگر ہاں سلیم دل اور حق کی تلاش کی پیاس ہو۔موٹی عقل والا بھی جس طرح کانٹے کی تکلیف محسوس کر کے جوتا پہن لیتا ہے اور سردی کے لئے گرم کپڑا پہن کر آرام پاتا ہے۔اندرونی دکھوں کو محسوس کرنے والا اور روح اور اخلاق کے علاج کو چاہنے والا ذرا اسی لطیف عقل سے کام لے تو راست باز کو پہچان سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تو محض اپنے فضل سے اس کو واضح کر دیا ہے۔پھر وہ کیا بات بتلائی