خطابات نور — Page 105
خدا کی طرف سے قدر بڑھتی ہے اور یہ ایک مزدوری ہوتی ہے جس کا عظیم الشان اجر ملنے والا ہوتا ہے اور ان دعائوں سے حصہ ملتا ہے جو خدا تعالیٰ کا مامور خصوصیت کے ساتھ ایسے موقع پر مانگتا ہے کیونکہ وہ سب جو اس وقت موجود ہوتے ہیں۔ان دعائوں میں شریک ہوتے ہیں۔پس ایسے موقعوں پر آنا چاہئے لیکن پاک اغراض اور رضاء الٰہی کے مقصد کو ملحوظ رکھ کر نہ کسی اور غرض اور خواہش سے۔۵؎ پھر نماز میں ایک خاص قسم کا فیضان اور انوار نازل ہوتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ ان میں ہوتا ہے اور ہر ایک شخص اپنے ظرف اور استعداد کے موافق ان سے حصہ لیتا ہے۔پھر امام کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے اور بیعت کے ذریعہ دوسرے بھائیوں کے ساتھ تعلقات کا سلسلہ وسیع ہوتا ہے۔ہزاروں کمزوریاں دور ہوتی ہیں جن کو غیر معمولی طور پر دور ہوتے ہوئے محسوس کرلیتا ہے اور پھر ان کمزوریوں کی ب<mark>جا</mark>ئے خوبیاں آتی ہیں جو آہستہ آہستہ نشوونما پاکر اخلاق فاضلہ کا ایک خوبصورت باغ بن <mark>جا</mark>تے ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ ہم یہاں آتے ہیں اور کچھ نہیں لے <mark>جا</mark>تے ہیں بہت کچھ ساتھ لے <mark>جا</mark>تے ہیں مگر یہ لینا اپنی استعداد کے موافق ہوتا ہے۔جس جس قدر انسان اپنا دل صاف کرتا اور نیکی کے قبول کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔اسی اسی قدر وہ ان فیضانوں سے حصہ لیتا ہے۔جس طرح پر بچہ پرورش پاتا اور نشوونما پاتا ہے۔اسی طرح پر نیکیوں اوربدیوں کا بھی نشوونما ہوتا ہے۔جو شخص مامور کی صحبت میں رہ کر ایک دم میں چاہتا ہے کہ تبدیلی ہو<mark>جا</mark>وے وہ خدا سے ہنسی کرتا ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے لیکن ہم اس کا قانون قدرت اسی طرح پر پاتے ہیں کہ تدریجی ترقی ہوتی ہے۔انبیاء علیہم السلام سے بڑھ کر کون صاف دل اور پاک فطرت ہوتا ہے لیکن ان کے کمالات اور ترقیوں کے سلسلے پر اگر نظر کی <mark>جا</mark>وے تو وہ بھی تدریجی ہوتے ہیں۔اگر کمالات تدریجی نہ ہوتے تو چاہئے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یک دفعہ ہی سارا قرآن شریف نازل ہو<mark>جا</mark>تا۔تیئس برس میں کیوں نازل ہوا؟ دیکھو کسان جو دانہ زمین میں ڈالتا ہے کیا وہ دوسرے ہی دن اس کے کاٹنے کے لئے آمادہ ہو<mark>جا</mark>تا ہے۔نہیں ایک اچھے خاصے عرصے تک اسے انتظار کرنا پڑتا ہے۔پھر خدا کے اس صریح اور بیّن قانون کو توڑ کر جو چاہتا ہے کہ پھونک مارنے سے ولی ہو<mark>جا</mark>وے تو وہ میری رائے میں