خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 88 of 660

خطابات نور — Page 88

بتایا کہ یہ لذت قرآن اسی غلطی کی وجہ سے جاتی رہی ہے جو تو نے ایک لڑکے کو پسند کرنے میں کی ہے۔اسی سے پتہ لگتا ہے کہ قرآن شریف سے لذّت اٹھانے کے واسطے کس قدر طہارت اور پاکیزگی کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے۔(البقرۃ :۲۸۳) تقویٰاختیار کرو۔پھر یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ وہ تمہارا معلم ہو اور قرآن شریف تمہیں پڑھاوے۔غرض یہ بالکل سچی بات ہے کہ دنیا میں یہی ایک کتاب ہے جس کی تلاوت جس کا تکرار گھنٹوں، دنوں، ہفتوں، مہینوں اور سالوں کا تدبّر انسان کو گھبراتا نہیں بلکہ زیادہ خوش اور زیادہ جوش اور عشق اس مجاہدہ کتاب اللہ کے لئے عطا کرتا جاتا ہے۔ہزاروں ہزار اولیاء اور صلحاء اور اکابرامت گزرے ہیں جنہوں نے اس نتیجہ کو اپنے حالات زندگی سے صحیح پایا ہے۔تاہم میں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ قرآن شریف سے بڑھ کر راحت بخش کوئی کتاب اور اس کا مطالعہ نہیں ہے۔مگر آہ! درد دل سے کہتا ہوں اسی راحت بخش کتاب کو آج چھوڑ دیا گیا ہے۔(الفرقان :۳۱)۔اے میرے ربّ بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔مجھے قرآن اس قدر محبوب ہے کہ میں باربار اس کا تذکرہ کرنا اس کا پیارا نام لینا اپنی غذا سمجھتا ہوں اور اسی دُھن اور َلو میں ابھی تک میں نے اس مضمون پر جو میں نے شروع کیا تھا کچھ بھی نہیں کہہ سکا۔یہی وجہ ہے کہ بعض آدمی میرے اس قسم کے طرز بیان کو پسند نہ کرتے ہوں مگر میں کیا کروں میں مجبور ہوں اپنے عشق کی وجہ سے باربار اپنے محبوب کے تذکرہ سے ایک لذّت ملتی ہے کہے جاتا ہوں۔حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا علم کتنا بڑا وسیع ہے اور آپ کی نظر کیسی باریک اور عمیق ہے۔کسی نے صحابہ میں سے آپ سے لائف آف محمدؐ پوچھی ہے کیونکہ بیرونی حالت تو لوگ دیکھتے تھے۔آپ کے معاملات کا بھی علم تھا جو وہ صحابہ اور دوسرے لوگوں سے کرتے تھے غرض گھر کے باہر کی لائف صحابہ کے پیش نظر تھی مگر اندرونی لائف ،اندرونی معاملات کا علم کسی کو نہیں تھا۔اس لئے نہایت سے نہایت بے تکلف رشتہ میاں اور بی بی کا ہوتا ہے۔صحابہ نے بیرونی معاملات اور حالات کے لئے اپنی اور اپنے احباب کی آنکھیں کافی سمجھ کر حضرت صدیقہ سے پوچھا ہے کیونکہ صدیقہ سے بڑھ کر