خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 67 of 660

خطابات نور — Page 67

اسے پایا اور اس کی شناخت کا موقع ہم کو دیا گیا۔والحمدللّٰہ علٰی ذٰلک۔یہ بدلہ یہ جزا کس بات کی تھی؟ اسی عظیم الشان قربانی کی جو اس نے خدا تعالیٰ کے حضور دکھائی۔واقعی یہ بات قابل غور ہے کہ ابراہیم کی عمر جب کہ سو برس کے قریب پہنچی۔اس وقت قویٰ بشری رکھنے والا کیا امید اولاد کی رکھ سکتا ہے پھر تیرہ برس کی عمر کا نوجوان لڑکا جو چوراسی برس کے بعد کاملا ہوا ہو اس کے ذبح کرنے کا اپنے ہاتھ سے ارادہ کرلینا معمولی سی بات نہیں ہے جس کے لئے ہر شخص تیار ہوسکے غور کرو۔اس ذبح کے بعد عمر کے آخری ایام ہیں اور قبر قریب ہے۔پھر کیا باقی رہ سکتا ہے۔نہ مکان رہا نہ عزت و جبروت۔مگر اے ابراہیم تجھ پر خدا کا سلام! تو نے خدا تعالیٰ کے ایک اشارہ اور ایما پر سارے ارادوں اور ساری خوشیوں، خواہشوں کو قربان کردیا اور اس کے بدلے میں تو نے وہ پایا جو کسی نے نہیں پایا۔خاتم النبیین اسی اسماعیل کی نسل میں ہوا اور خاتم الخلفاء اسی خاتم النبیین کی امت میں۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَاصَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔پھر ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وہ صدق اور اخلاص کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ  (البقرۃ:۱۳۲)اے ابراہیم تو فرمانبردار ہوجا عرض کیا حضور میں تو فرمانبردار ہوچکا۔اَسْلِمُنہیں کہا اَسْلَمْتُ کہا یعنی اپنا ارادہ رکھا ہی نہیں معًا حکم الٰہی کے ساتھ ہی تعمیل ہوگئی۔پھر اس اخلاص سے کیا بدلہ پایا یہی کہ ابوالملّتٹھہرا۔جو کچھ چھوڑا اس سے بڑھ کر ملا۔اسی طرح پر سید الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حالات پر غور کرو۔اہل مکہ نے کہا کہ اگر آپ کو بادشاہ بننے کی آرزو ہے تو ہم تجھ کو بادشاہ بنانے کے واسطے تیار ہیں۔اگر تجھے دولت مند بننے کی خواہش ہے تو دولت جمع کردیتے ہیں۔اگر حسین عورت چاہتا ہے تو تامل و مضائقہ نہیں۔یہ کیا چیزیں تھیں مگر دنیا پرست کی نظر ان سے پرے نہیں جاسکتی تھی۔اس لئے اسی کو پیش کیا۔آپ نے اس کا کیا جواب دیا؟ یہی کہ اگر سورج اور چاند کو میرے دائیں بائیں رکھ دو تو بھی میں اس اشاعت اور تبلیغ سے رک نہیں سکتا۔اللہ! اللہ! کس قدر اخلاص ہے۔اللہ تعالیٰ پر کتنا بڑا ایمان ہے۔قوم کی مخالفت ان دکھوں اور تکلیفوں کے سمندر میں اپنے آپ کو ڈال دینے کے واسطے روح میں کس قدر جوش اور گرمی ہے جو اس انکار سے آنے والی تھیں۔ان تمام مفاد اور منافع پر تھوک دینے کے لئے کتنی بڑی جرأت ہے جو وہ ایک دنیا دار کی