خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 596 of 660

خطابات نور — Page 596

کہاں کے رہنے والے ،کیسے چال چلن کے تھے اور یہ کہ انہوں نے اگر ملہم تھے اور وید سچے الہامات ہیں تو کس قدر ویدوں کا اثر دنیا میں پھیلایا۔رہے ان کے جانشین اور جانشینوں کے تعلیم یافتہ۔سو موجب دعویٰ آریہ کے قریباً دو ارب برس گزرتے ہیںکہ ویدوں نے دنیا میں ظہور پایا اور اس عرصہ میں وید کے اتباع میں کسی نے ان کا صحیح ترجمہ بھی نہ کر دکھا یا۔دوسروں سے کیا اپنے لوگوں سے بھی اخفا کرتے ہیں۔رہی یہ بات کہ ویدوں پر عمل درآمد رہا سو آریہ کا چال چلن ہی بتاتا ہے کہ کس قدر وید پر عمل کرتے ہیں۔غرض جب کسی نبی کی پاک تعلیم نے دنیا پر اپنا قوی اثر نہ دکھا یا اور نہ اس نبی کے جانشین نے اپنی پاک تعلیمات کو جگت پر ظاہر کیا تو اللہ تعالیٰ کے رحم وفضل نے اور کو یہ عہدہ عطا کر دیا۔یہاں تک کہ ایک ایسا آدمی دنیا پر ظاہر ہوا جس نے ان تعلیمات کو پھیلایا اور اشاعت میں جو کسر باقی رہی اس کی تلافی وہ جانشین کرنے لگے۔جن کی کرامات وپاک تاثیرات کے اثبات میں علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل(تفسیر الرازی۔سورۃ فصلت ’’حٰم السجدۃ‘‘زیر آیت:۳۳تا۳۶) کی پیشین گوئی ہو چکی تھی اور چونکہ الدال علی الخیر کفاعلہ(سنن ترمذی،کتاب العلم ،باب الدال علی الخیر کفاعلہ) کے رو سے جانشینوں کی پاک کوششوں کاثواب ان ہادیوں کے نامہ اعمال میں بھی انصافاًدرج ہوتا ہے اس واسطے یہ سب آپ کی کوششیں ہیں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔روحانی ہدایت وترقی…… مخلوق کے فرد فرد کے لئے کسی مذہب میں ضروری نہیں۔امید ہے کہ جس طرح عرب و شام ومصر وروم اور ہند و سندھ، تاتار پر بلا واسطہ یا بالواسطہ حجت قائم ہو گئی اسی طرح تمام دنیا پر حجت قائم ہو جائے گی۔جب سب دنیا کو مجموعہ صداقتوں کا پہنچ گیا اور ان پر حجت قائم ہو گئی تو یہ حصہ احکام سنانے کا پورا ہوگیا۔ا ب ان کی جزا سزا کا وقت آ جاوے گا اسی ضرورت کی طرف قرآن شریف اشارہ فرماتا ہے۔(آل عمران:۱۶۵) (ریویو آف ریلیجنز ستمبر ۱۹۲۳ ء صفحہ ۹تا۱۸) ٭…٭…٭