خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 595 of 660

خطابات نور — Page 595

مقنّن وممیز کے ملنے کا سوال پیدا ہوتا ہے تب ہمہ قدرت ،ہمہ فضل ، ہمہ طاقت اللہ تعالیٰ جس کے گھر میں بخل نہیں اس کی طر ف سے الہام ہوتا ہے۔پھر جو کچھ ایک ملک میں الہام سے سکھایا ممکن ہے دوسرے ملک میں اس الہامی تعلیم کا اثر نہ پھیلے اس لئے دوسری قوموں میں اللہ تعالیٰ ملہم بھیجتا ہے۔جیسے فرماتا ہے :۔(فاطر:۲۵)اورفرمایا (بنی اسرائیل:۱۶)۔دنیامیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کو ملہم رسول بھیجے اور ان کو صداقتیں بتائیں اور ان ملہموں کو ان صداقتوں کے پھیلانے کی لو لگادی مگر ان تعلیمات کے پھیلانے میں انبیاء ورسل کو کوئی اور حد بندی نہیں کر دی گئی کہ فلاں مدت تک فلاں ملک تک اس ہدایت کو پھیلائو پھیلانے کا ثواب ملے گا۔انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی مقدس روح بھی سُتَنْتَرآزاد بنائی گئی تھی۔وہ مجبور نہیں تھی۔جب ایک ملہم کے ہدایات وتعلیمات کے پھیلائو میں ظاہری یا باطنی یا دونوںصورت میں کچھ ذرا کمزوری ہوئی اور اس کا پورا اثر اس کی تلامیذ یا قوم یا ملک تک بھی ایسا نہ ہوا جس کے بعد قوم کا عذر نہ رہے تو اور پاک شخص اس عہدہ پر ممتاز کیا گیا۔غور کرو حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کی تاثیر کیسی کمزور ثابت ہوئی۔جناب کے حواریوں سے فسٹ نمبر کے حواری عیسائی کلیسیا کے فائونڈیشن سٹون سیدنا مسیح علیہ السلام کو ملعو ن کہہ بیٹھے اور جو کچھ یہودا اسکریوطی نے سلوک کیا وہ دنیا سے مخفی نہیں اور جو کچھ روحانیت آپ کی پاک تعلیم سے آپ کی قوم کو حاصل ہے معلوم۔سوچو!حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کا وہ قول کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے نکلنا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو (متی ۱۹باب ۲۴)۔اور یورپ وامریکہ کی دنیا داری۔سید نا موسیٰ علیہ السلام کے مخاطب ایسے تھے کہ جب ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر کے آہنی تنور(یرمیا۔۱۱باب۴)سے نکال لائے اور حکم کیا کہ کنعان کو چلو تو انکار کر بیٹھے۔قرآن کریم اس قصہ کو عبرت کے لئے نقل فرماتا ہے۔آخر بدوں یوشعؑ بن نون اور کالب بن یفنہ کے کوئی بھی فرمانبردار نہ نکلا(دیکھو گنتی ۱۴باب۳۰)۔سبحان اللہ کسی نے بھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے حکم ماننے میں دلیری نہ دکھائی۔وید والے سورج ، وایو ، اگنی ،اگھرہ کتنے ہیں ان کی نسبت کوئی شہادت نہیں دے سکتا۔کون تھے