خطابات نور — Page 594
ان صداقتوں پر نہایت پُر انی بولیوں کے ذریعہ واقف ہونا اور ان کی تفاسیر میں سے غلط کو صحیح سے الگ کرناکیسا مشکل اور محال ہوتا۔پھر آخر ان صداقتوں کے مجموعہ کو بھی کسی نہ کسی پیرایہ میں بیان کرنا ہی پڑتا۔علاوہ بریں جو ایک پیرایہ میں نہ جانے اسے دوسرے پیرایہ میں بتانا بلحاظ رحم اگر ضروری ہے تو اسی ضرورت پر قرآن نے فرمایا ہے :۔(القصص:۴۷)اور فرماتا ہے :۔(الشوریٰ:۸)۔آٹھویںضرورت: جب اللہ تعالیٰ زمین و آسمان اور ان کے درمیان غرض جو انسانی ضرورت کی اشیاء تھیں پیدا کر چکا تو اس نے انسان کو جس کا وجود بقا ان اشیاء پر موقوف تھا پیدا کیا اور اس میں علاوہ ان قویٰ کے جو جمادات، نباتات میں موجود ہیں نیک وبد علوم واخلاق کا مادہ بھی رکھ دیا۔علمی حصہ میں انسان ان سوشل ، مارل ، پولیٹیکل قواعد و ضوابط کا محتاج تھا۔جن کے باعث اکل، شرب ، لباس، آسائش ، آرام ، جماع ، اور تمدن وامن میں ،ابتداء، انجام ، نشیب وفراز، پھر شائستگی ، آخر ،افادہ واستفادہ ہی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہبی علوم لینے کا حقدار ہو جاتا ہے اور عملی حصہ میں انسان ارادہ استطاعت کو لے کر کبھی باری تعالیٰ سے انس و محبت پیدا کر کے استقلال، استقامت ، فراخ حوصلگی ، نفع رسانی ، عاقبت اندیشی سے ایسا پاکیزہ باطن بنتا ہے کہ ظاہری نجاست کے ساتھ بھی بارگاہِ الٰہی میں مناجات نہیں کرتا ، مگر کبھی انسان شتر بے مہار ، ہر ایک ضرورت میں ناعاقبت اندیش ، رہبان، فرعون ، مضطرب ، تنگدل، بخیل ، ایسا گندہ کہ پاکیزگی کا نام بھی نہ جانے ہو جاتاہے۔فطرت کے موافق سچی آرام دہ اشیاء کا نام نیکی اور مخالف اشیاء کا نام بدی ہے مگر رسم ، رواج، آب وہوا ، ناقص تعلیم ، افلاس ، دولتمندی ،حکومت کی بری تاثیرا نسان کو ایسے پھندے میں پھنساتی ہے کہ مخالف اشیاء کو موافق اور موافق کو مخالف سمجھ کر عقل وتمیز کوکھو بیٹھتا ہے۔فطری ممیزہ قوت اور نور ایمان اور کانشنس جسے نفس لوامہ کہئے وہ ایک بیج کی طرح ایسے کمزور ہو جاتی ہے کہ اس میں ایجاد کیا تمیز ہی نہیں رہتی۔غرض جب ان اسباب سے جن کا ذکر اوپر ہوا تمیز ٹھیک نہیں رہتی تو انسان کو یقینی آرام دہ