خطابات نور — Page 588
اور ان مشنریوں پر اور ان کے مرکز پر عرب کا اثر پڑ سکتا ہے تو اس نیچر کے تجربہ اور مشاہدہ سے پورا یقین ہے کہ تشریعی نبوت ختم ہو چکی کیونکہ اب کوئی بر اعظم نہیں رہا جس کے عام باشندے ایسے ہوں کہ ان پر کسی قوی الہمۃ مشن کا اثر نہ پڑ سکے بلکہ کل دنیا کا اثر دوسرے پر اور عرب کا اثر دنیا پر ثابت ہو چکا۔اب موجودہ دنیا پر ثابت ہو چکا ہے کہ عرب کا درہ مستقل، وفادار ،راستباز مشن قائم ہو تو تمام قومیں اس کی بات ماننے کو تیار ہیں اس مضمون کو قرآن کریم اس طرح بیان فرماتا ہے:۔۔(الانعام:۱۵۶تا۱۵۸) (۲)(البینۃ:۲تا ۴) عرب جو دنیا بھر کو عجم کا خطاب دیتے تھے کیا نہیں کہہ سکتے تھے ہم عجموں گونگوں کی کب مانیں۔کس نے عرب کو کاحکم دے کر(آلِ عمران:۱۰۴) کا لقب دیا۔(الاعراف:۱۵۹) کس نے کہا۔ذرااس کا نشان دو۔تیسری ضرورت دنیا میں ہمارے سادات انبیاء علیہم الصلوٰ ۃ والسلام تشریف لائے اور انہوں نے بقدر امکان راستی اور راستبازی کو دُنیا میں پھیلایا مگر ان کے نا عاقبت اندیش اور جھوٹے بلکہ ناسمجھ پیروئو ں نے ان کی پاک تعلیم میں نا فہمیوں کومِلادیا اور اس میں اختلاف مچایا۔ہندوئوں نے اللہ تعالیٰ کو معاذاللہ کئی اوتاروں کچھ َمچھ اور سؤر کے اشکال پر دنیا میں آنا اعتقاد کیا۔عیسائیوں نے اللہ تعالیٰ کے خاکسار بندے حضرت مسیح علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کو خدا یا خدا کا ازلی بیٹا