خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 587 of 660

خطابات نور — Page 587

ایک شخص گوتم کی تعلیم ماننے کے لئے بھی تیارہیں اور بلاد کی حالت پر اگر نگاہ کو دوڑائواور افریقہ کی اندرونی اس پھیلائو پر نظر کرو جس میں اسلام سر توڑ اور کچھ عیسائی مذہب ترقی کر رہا ہے تو میری اس عرض کی صداقت پر ناظرین کو کلام نہ ہوگا۔تجربہ اور مشاہدہ نے صاف طو ر پر ظاہر کر دیا ہے کہ صرف عرب کے بلکہ قریش اور ان میں بھی حجازی اور اہل مکہ ہی بخصوصیت اس دنیا میں ایسے لوگ ہیں جن پر عام طور سے غیر قوموں کی ظاہری یا باطنی تاثیر نے اثرنہیں کیا (دیکھویرمیاہ کی کتاب )۔دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس کے مرکز پر بیرونی حملوں کے زدکا اثر نہیں پہنچا ہم نے ایشیا، یورپ ، افریقہ ،امریکہ ، نیوہالینڈ، نیوزی لینڈ وغیرہ اور ان کی یرو شلم اور پیٹراموں کے معبد ، پارسیوں کے ایرانی آتش کدہ ، بابل ، کانشی جی ، لاسہ ، انطاکیہ وغیرہ کو دیکھ لیا۔کسی میں مکہ یا مکہ والوں کی آن نہ دیکھی جب دنیا پر اور دنیا کے ہادیوں پر اور ہادیوں کے جان نثار مشنریوں پر حجت کے طور پر ثابت ہو گیا کہ کوئی بھی عر ب کے مرکز تک راستبازی کو کامل طور نہ پہنچا سکا۔جب پہلے اُپدیشکوں اور مشنریوں نے اس قوم عرب کی نسبت یہ کمزوری دکھائی اور ان پر اتمام حجت نہ کر سکے تو اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم نے جو ش مارا اور اس قوم کو محروم نہ رکھا بلکہ وہاں ایسا ہادی پیدا کر دیا اور اسے قرآن جیسی کتا ب دی۔جس کی قوی تاثیر نے وہ تمام صداقتیں اور راستبازیاں جو دنیابھر کے ملہموں کے پاس اور پاک کتابوں میں مندر ج تھیں مرکز عرب کو بھی پہنچا دیں اور اس طرح جو الزام دنیا کے راستباز مشنریوں پر تھا کہ انہوں نے اپنا پورا کام نہ کیا یعنی مرکز عرب کو نہ جیتا اس کو اُٹھا دیا اور ان راستبازوں اور راستبازیوں کے بدلہ میں حضرت نبی عرب اور قرآن کریم نے کفایت کی اور راستبازوں کے سچے ارادے کی تکمیل قرآنی ضرورت نے ثابت کردی۔ترقی چونکہ بتدریج دنیا میں پھیلتی ہے اس لئے وہ تمام صداقتیں ہمارے سیّد ومولیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طفیل اوّل عرب کے مرکز اور تمام عرب میں پھیلیں پھر اس کے جانشینوں کی وساطت سے اور بلاد میں پھیل رہی ہیں اور امید ہے آہستہ آہستہ تمام دنیا پر اس مجموعہ صداقتوں کی حجت قائم ہو جائے گی۔چونکہ تجربہ ،پھر مشاہدہ نے ثابت کر دیا ہے کہ اور لوگوں پر اور ان کے مر کز پر مختلف مشنریوں کا اثر پڑتا رہا