خطابات نور — Page 586
قرآنِ مجید کا نزول کیو ں ضروری تھا؟ (مطبوعہ ریویو آف ریلیجنز ستمبر۱۹۲۳ء) پہلی ضرورت اللہ تعالیٰ کا وہ فضل ، ارادہ، علم اور قدرت جس سے وہ مخلوق کو پیدا کرتا اور عزت کے لائقوںکو عزت دیتا ہے۔اس کی تکمیل اور اس کا پورا ہونا ایک لابدی امر ہے کیونکہ اس کا کوئی مانع نہیں۔جب سیدنا نبی عربؐ کو اس نے اپنے خاص فضل اور رحمت سے نبی رسول، رسولوں کا سردار، رسولوں کا خاتم بنایا اور اسے قرآن جیسی پاک کتاب دینی چاہی تو اس قادر مطلق کے فضل وارادہ کا کون مانع ہے۔یہ دنیا اور دنیا کے لوگ اس کا ملک اور مِلک ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے ملک کی رعایا پر مختلف جسمانی حکام بنایا کرتا ہے تو کہ ان کاا نتظام دنیا میں کسی قدر امن کو قائم رکھے۔روحانی انتظام جسمانی انتظام سے زیادہ ضروری اور توجہ کے قابل ہے اگر دنیا کے انتظام کے واسطے اللہ تعالیٰ نے مختلف ناظم بھیج دیئے تو دنیوی انتظام سے زیادہ دینی روحانی انتظام کے واسطے کئی ناظموں کا آنا ضروری نہیں ؟ دوسری ضرورت جزیرہ نما عرب کے لوگ الٰہیہ مواعظ سے مدت تک محروم رہے۔توریت اور انجیل نے عرب کے جیتنے میں کوئی کامیابی نہ دکھائی۔بھلا ویدجس کی تعلیم سے ہم آریہ ورتی لوگ باوجود کوشش کے بھی واقف نہیں ہو سکے، کیونکر فائدہ اٹھاتے۔تجربہ نے ثابت کر دیا ہے کہ تمام بلاد کے لوگ بیرونی یااندرونی یا دونوں قسم کے معلموں کی تعلیمات کو قبول کرتے اور مان سکتے ہیں اور جیسی جسمانی فتوحات میں بیرونی لوگوں کے محکوم بن جاتے ہیں ویسے ہی روحانی فتوحات میں بیرونی فاتحوں کے ماتحت ہو سکتے ہیں۔یورپ ، افریقہ ، امریکہ پر جو اثر شامی مذہب کا پڑا ہے اس سے ظاہر ہے کہ اصل اور پاک عیسائیت درکنار اور سید نا مسیح علیہ السلام کا رسول ماننا کیا یہ لوگ ابن اللہ بلکہ خدا ماننے کو تیار ہیں۔ہند، سندھ، افغانستان ، چین کے حالات ظاہر ہیں کہ چین والے تو نہایت کمزور قوم آریہ ورتوں سے