خطابات نور — Page 584
جیسے نطفہ ترقی کر کے ایک انتہائی نقطہ پر پہنچتا ہے پیدائش جسمانی کے مراتب ستہ گزارنے کے بعد انسانیت کی روح اس کے اندر آتی ہے اسی طرح روحانی تکوین کے ان چھ مدارج کو طے کر کے بھی انسان کامل بنتا ہے اور اس کے مقابل میں کو رکھا ہے۔پھر روحانی کمال کا مرتبہ وہی نماز ہے جس سے شروع کیا اور اب اسی پر ختم کر کے کہا جیسے بچہ پیٹ ہی میں سے گزر کر نکلتا ہے اسی طرح پرتم اگلے جہاں تک جانے میں اپنی عمر نماز ہی میں گزاردو اور پانچ وقت کی نماز سنو ار کرپڑھو۔یہ فروع ہیں جو میں ایمان پر مترتب سمجھتا ہوں۔ان میں سے بعض انسان کے قویٰ اور جسم پر مؤثر ہیں بعض اس کے اموال پر۔اس کے ساتھ ہی میں تمہیں کہتا ہوں کہ بد ظنیاں چھوڑ دو بد ظنی بہت بری بلا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (الحجرات:۱۳) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایاکم و الظن ان الظن اکذب الحدیث(صحیح بخاری کتاب الفرائض،باب تعلیم الفرائض) بد ظنی کرنے والا جھوٹا ہوتا ہے۔او ر یہ جو کہا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو پھیلایا نہ کرو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا ہے۔امن یا خوف کی کوئی بات تم پھیلانے کے مجاز نہیں بلکہ اسے اپنے امیر اور سر گروہ کے پاس پہنچا دو وہ جو مناسب سمجھے گا کرلے گا۔دیکھو جس شخص نے اظہار الحق کے دو نمبر نکالے اور جنہوں نے کھلی چٹھی انصار اللہ کے نام شائع کی اور جنہوں نے خلافت کے متعلق مباحثہ کیا ان کا کوئی حق نہ تھا۔اس کھلی چٹھی نے تو میرے دل کو کھول دیا۔ایسا ہی ایک شخص نے ایک چھپا ہوا کارڈ میرے پاس بھیجا اور پوچھا کہ اشاعت کی اجازت دیتے ہو۔میں نے کہا کمبخت تو نے قرآن کے خلاف کیا۔چھاپ کر بھیجتے ہو اور پھر اشاعت کی اجازت مانگتے ہو۔اس قسم کے لوگ قرآن کے خلاف کرتے ہیں اور وہ قوم میں جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک ہاتھ پر جمع کیا تھا تفرقہ ڈلوانا چاہتے ہیں ان سے بچو۔پھر کسی نے کہا گھوڑی سے گرے ہیں، یہ گھوڑی خلافت کی گھوڑی ہے۔استقامت میں فرق آگیا۔ایسے شریر جھوٹے ہیں خدا نے مجھے اس کا جواب سمجھا دیا ہے وہ لمبا جواب ہے۔میں تمہیں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں سے بچتے رہو اور بد ظنیاں چھوڑ دو۔آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے