خطابات نور — Page 577
صحبتیں، لباس، کھانے، مکانات اور مخلوقات دیکھی۔گویا یہ شعر میرے ہی حق میں ہے ؎ من بہر جمعیتے نالاں شدم! جفت خوشحالاں و بد حالاں شدم ہر کسے از ظن خود شد یار من وز دروں من نجست اسرار من مال کی وجہ سے عجیب عجیب واقعات دنیا میں آتے ہیں اور جبکہ قرآن مجید کامیابی اور فتح مندی کے اصول بتا رہا ہے تو قدرتی طور پر کامیابی کے ساتھ اموال کی ترقی ہونی ضروری تھی اس لئے اس کے مناسب حال یہ اصل اس سے آگے ترقی کابتایا۔۔میں نے بتا یا ہے کہ لوگ لغو سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے اور اس کے بالمقابل حقائق الاشیاء کو ترک کر دیتے ہیں تو ہر چیز کو لغو سمجھ کر چھوڑ دیتے اور اس کے مفاد سے بے بہرہ رہ جاتے ہیں اور یا تو بے ہودہ خیالات سوچتے رہتے یا بیہودہ مجلسوں میں بیٹھے ٹریں مارتے رہتے ہیں۔سب سے بڑا درد مجھے ایک دفعہ ایک عالم کو دیکھ کر ہوا جو ایک جگہ بکواس کر رہا تھا۔میں نے اس کو کہا کم عقل تو کیا کرتا ہے۔مجھے نہایت ہی افسوس ہوا جب اس نے کہا الگپ والشپ طراوت المغز۔میں حیرا ن ہو گیا کہ یہ عربی کہاں سے بنا لی۔ایک بیہودگی سے منع کرنے پر بجائے باز رہنے کے ایک اور لغو حرکت کر دی۔میں نے کہا کہ تمہارا یہ بکواس کتے خصّی سے بھی بد تر ہوا جاتا ہے۔غرض لغویات سے بچ کر جب انسان ترقی کرتا ہے تو پھر تیسرا مرحلہ اس کے مال کے متعلق آتاہے یہ حالت گویا جسمانی پیدائش میں مضغہ سے ملتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے تصر ف کے نیچے آتا ہے۔اسلام کے دو ہی عظیم الشان شعبے ہیں اور ایمان کی تکمیل انہیں دو سے ہوتی ہے تعظیم لامر اللہ اور شفقت علیٰ خلق اللہ۔پہلے تعظیم لامراللہ کے متعلق بتایا ایمان ہو اور اس کے بعدنمازوں میں خشوع ہو اور اس خشوع کے پیدا کرنے کے لئے لغویات سے احتراز ہو۔اب بتایا کہ شفقت علٰی خلق اللہ کے لئے زکوٰ ۃ دو۔جس بد بخت میں مخلوق پر شفقت نہیں وہ کسی بھی کام کانہیں۔انفاق فی سبیل اللہ کی حقیقت اور اس کے اسرار قرآن مجید اور احادیث میں اور آ ثار میں بہت ملتے ہیں۔ایک موقع پر فرمایا ہے(البقرۃ:۱۹۶)۔فرمایا اپنے اموال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو اگر نہیں کرو گے تو اپنے آپ کو ہلاکت میں