خطابات نور — Page 574
میں (المؤمنون:۱۵)کہلاتا ہے جنابِ الٰہی سے ایسا تعلق ہو کہ ہر حالت میں وہ جنابِ الہٰی کاسچا فرمانبردار ہو۔کسی کی دوستی،دشمنی ،غریبی،امیری ،مقدمات غرض کوئی بھی حالت ہو جنابِ الٰہی کا فرمانبردار ہو اور ہر قسم کی نافرمانیوںسے بچنے والا ہو۔ایک جگہ اس کی تصریح بھی فرمائی ہے۔(البقرۃ:۱۷۸) گویا مومن وہی ہوتے ہین جو ہر قسم کے دکھوں تکلیفوں اور مقدمات میں اللہ تعالیٰ کو ناراض نہیں کرتے۔اب تم اپنی عمر کو دیکھو اور غور کرو کہ تمہاری زندگی میں جب اس قسم کی حالتیں تم پر آئیں تم نے کیا کیا ؟ ہماری حالت کا نقشہ اور بھی سوچو کہ اپنیلحافوں میں گھستے ہوئے جب تک تم جاگتے ہو تم کیا کرتے ہو کیا اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہو یا منصوبے بازیوں میں وقت گزار دیتے ہو۔میں تمہیں ایک مثال سناتا ہوں جس سے تم کو معلوم ہوگا کہ پر کہاں تک عمل ہوتا ہے۔ایک جگہ میری چارپائی تھی اس سے نیچے ایک مکان میں انگریزی خوان احداث تھے۔عشاء کی نماز کے بعد میں جب اپنی چارپائی پر لیٹا تو ان میں سے ایک نے بڑی لمبی تقریر کی جب وہ ختم کر چکا تودوسرے نے کہا اومیری تو سنو !یہ کہہ کر وہ ایک بکواس کرتا رہا۔پھر تیسرے نے شروع کردی۔میں تنگ آگیااور اپنی بیوی کو کہا کہ چارپائی یہاں سے دوسری جگہ لے چلو۔اس نے کہا کہ ابھی تو یہ لوگ گرم ہوئے ہیں۔خیر میں تو وہاں سے اٹھا اور سو گیا۔مجھے دوسرے دن رپورٹ پہنچی کہ تین بجے سوئے تھے۔یہ سب کچھ لغو تھا۔ایسی باتوں سے اعراض کرنا چاہیئے۔ایسا ہی ایک شخص کو میں نے کہا کہ ملازمت کر لو تمہارے حق میں بہتر ہے۔اس نے خیالی منصوبے بنائے ہوئے تھے۔کہنے لگا اس ملازمت سے کیا ہوتا ہے میں تجارت کروں گا۔تین برس کے بعد وہ مجھے ملا میں نے اس کو کہا کہ کیا کمایا۔کہنے لگا ابھی ایک دوست کا پانچ سوروپیہ تباہ کر کے آیا ہوں مگر اب مجھے سمجھ آگئی ہے کہ تجارت اس طرح پر کرنی چاہئے۔میں نے کہا کہ اگر تم ملازمت کرتے تواس وقت تک دس روپیہ کے حساب سے تم کو تین سو ساٹھ روپیہ تو مل چکے ہوتے۔اب