خطابات نور — Page 557
یَقْوُلُ نہیں یَقُوْلُ پہلے ہی موجود ہے صرف کی ضرورت نہیں۔کہنے لگانحو۔میں نے کہا قرآن کریم میں زیر وزبر پہلے ہی سے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔کہنے لگا، لغت۔میں نے کہا کہ قرآن کے لغت مشکل نہیں۔تم کوئی مشکل لغت پوچھو۔اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اس کی زبان پر یہ جاری کیا (الاحزاب:۷۱) میں نے کہا یہ تو بڑی سیدھی بات ہے تمہارے جموں کی زبان میں ’’گلائو گل سِدّھی ‘‘کہنے لگا تسلیمات۔میں ضرور قرآن پڑھوں گا۔حضرت صاحبؑ کے پاس ایک آدمی آیا۔بڑی جلدی جلدی اس کی زبان چلتی تھی۔حضرت صاحب سے کہنے لگا کہ جیسی انگریزی زبان ہے ایسی اچھی آپ کی زبانیں نہیں۔یہ بھی کہا کہ انگریزی زبان جیسی مختصر ہے آپ کی زبانیں اس قدر مختصر بھی نہیں۔حضرت صاحب نے کہا۔میراپانی کی انگریزی کیا ہوتی ہے اس نے کہا مائی واٹر(My water)۔حضرت صاحب نے کہا کہ صاحب ہماری زبان میں صرف مائی سے کام چل جاتا ہے، واٹر کی ضرورت نہیں۔آپ کی زبان میں پورا ایک لفظ زیادہ بولنا پڑتا ہے۔اگر تمہارے دل میں کسی نے یہ وہم ڈالا ہو کہ قرآن کریم پر سائنس کے حملے ہوتے ہیں تو تم اس سے وہ اعتراض جو وہ بیان کرتا ہے دریافت کر کے خوشخط لکھ کر سامنے لٹکا لو اللہ تعالیٰ تم کو سمجھا دے گا۔جو عام لوگ ہیں ان کو مباحثہ کی ضرورت نہیں۔۲۵؍ دسمبرکا بقیہ مضمون کل کی آیت (آل عمران:۱۰۵)۔تم میں سے ایک گروہ ہونا چاہئے جو نیکیوں کی طرف بلائے بدی سے تم کو بچائے قرآن کریم نے ہر ایک نیکی کو پسند کیا اور ہر ایک بدی کو ناپسند ٹھہرایا ہے یہاں ایک مدرسہ ہے وہ مدرسہ احمدیہ کہلاتا ہے اس میں لڑکوں کو جمع تو کر لیا ہے مگر ان کے کپڑوں کا ان کی روٹی کا کوئی بندوبست نہیں، ان کی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں۔سردی کا موسم آیا تو انہوں نے میرے کپڑے اتارنے شروع کئے۔وہ کب تک اس قابل بنیں گے اور واعظ ہوں گے۔ہم تو نہ ہوں گے اگر ہماری عمر کے بعد بنے تو ہم کو کیا خوشی۔تم میں سے عقلمند ایسا کرتے جب تک میرے پٹھے درست ہیں،میری زبان جب تک چلتی ہے ،میرا دماغ کام کرتا ہے،میرا دل جب تک اللہ تعالیٰ