خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 550 of 660

خطابات نور — Page 550

پڑھیں تب ا س سے نفع اٹھائیں غلط بات ہے۔تم جانتے ہو وہ غوث ، قطب، نبی ، ولی جو کروڑوں مخلوق کے ہادی بنے کیا وہ سائنس پڑھ کر بنے۔سائنس والے آج ایک بات پرزور دیتے ہیں، دوسرے دن اسی کو جھوٹ ٹھہرا دیتے ہیں۔ایک یقین پر کبھی ٹھہرتے ہی نہیں۔پُرانے لوگ کہتے ہیں زمین ساکن ہے آسمان متحرک ہے۔اب کہتے ہیں آسمان ساکن ہے زمین متحرک ہے۔یہ ان کا حال ہے بڑا مسئلہ ان کے نزدیک مادہ کا تھا۔مادہ کی حقیقت بیان کرنے میں اگلے پچھلے سب حیران ہیں کہ وہ ہے کیا ؟اسی واسطے اس قوم کی کوئی جماعت دنیا میں قائم نہیں ہوئی۔پھر خشیۃ اللّٰہ کا حصہ پاک عادات کا حصہ، خدائے تعالیٰ سے مکالمہ کا حصہ۔خدائے تعالیٰ کی جناب میں دعائوں کی قبولیت کا حصہ ان کو نصیب ہی نہیں ہوا۔اس کتاب یعنی قرآن کریم کو ماننے والے کئی گروہ ہو سکتے ہیں۔ایک عامی لوگ اگر اس کو مانیں اور اس پر عامل ہوں تو مکالمہ الٰہی سے مشرف ہو سکتے ہیں۔سچی خوابیں آتی ہیں، فرشتے باتیں کرتے ہیں۔اگر کوئی اس بات کو نہ پہنچا ہو تو کم سے کم اس کی نسبت یہ تو ضرور کہا جاتا ہے کہ یہ نیک آدمی ہے، خدا پرست آدمی ہے یہ دغا باز آدمی نہیں، یہ بد معاش آدمی نہیں ، یہ قابل اعتماد انسان ہے جو جھوٹ نہیں بولے گا ،فریب نہیں کرے گا، دنیا کو دین پر مقدم نہیں کرے گا، کوئی جعلسازی نہ کرے گا ،کسی کا حق نہیں رکھے گا۔تو ایسی کوئی قوم نہیں کہ اس کو کہے کہ یہ بُرا آدمی ہے۔پس قرآن کا عمل ہر شخص کے لئے بڑا دلربا ہے۔ایک وہ لوگ ہیں جو صرف ونحو اور اس کی فصاحت و بلاغت کی طرف متوجہ ہیں۔کوئی معانی وبیان وبدیع کی طرف متوجہ ہے۔یہ تو دنیا میں اعلیٰ ترین مخلوق ہوئی۔ایک وہ ہیں کہ ان کی فراست اور ان کے عملدرآمدکے قانون کے لئے قرآن کریم کافی کتاب ہے۔خدائے تعالیٰ فرماتا ہے یہ میری کتاب ہے پڑھ کر سنادو۔۔اس کتاب سے نفع وہ اٹھاتے ہیں جو نماز کو بڑا مضبوط کرتے ہیں۔نماز تمام بے حیائیوں سے روک لیتی ہے جو شخص سارے جہاں کو چھوڑ کر (الفاتحۃ:۵)کہے گا وہ قانون الٰہی کی خلاف ورزی کب کر سکے گا۔قرآن کریم میں ایک سورۃ کو خاص کیا ہے اس میں باربار فرمایا ہے (القمر:۱۸)ہم نے تو بڑی آسان کتاب بھیجی ہے