خطابات نور — Page 545
سب لوگ گئے۔مولوی صاحب سے کہا کہ آپ شکار کا سوٹ پہن لیں۔انہوں نے کہا میرے پاس تو وہی ستر روپیہ تھے اور تو کوئی سوٹ نہیں۔اسی طرح وہاں فٹ بال کا علیحدہ سوٹ چاہئے تھا کھانے کا علیحدہ سوٹ تھا۔ان کے دوست نے کہا کہ مولوی صاحب آپ بیمار بن جائیں اور لحاف اوڑھ کر لیٹ جائیں۔وہاں تین دن برات ٹھہری اور مولوی صاحب بیمار بنے پڑے رہے جب برات رخصت ہوئی تو مولوی صاحب تندرست ہو گئے اور ان کا وہ سوٹ کام آیا۔افسوس ان کو جھوٹ ہی بولنا پڑا۔اسلام پر کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا۔جو لوگ کراچی، بغداد، دیار بکر، جرمن، آسٹریا وغیرہ ہوتے ہوئے لنڈن پہنچے اور پھر فرانس ہوتے ہوئے مصر کی سیر کرتے ہوئے گھر آئے ہیں میں نے ان سے حالات پوچھے ہیں اور دریافت کیا ہے کہ رستہ میں کوئی آواز سنی ہے کہ مکہ بھی ایک شہر ہے؟ کہا کچھ خیال ہی نہیں آیا۔افسوس کس قدر غفلت اور نفاق ہے اور کس قدر مداہنت ہے۔سود کے رسالے لکھے ہیں کہ جائز ہے۔ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ اگر سود نہ لینے کا تیرا مسئلہ مان لیا جائے تو دنیا برباد ہو جائے۔میں نے کہا تیرہ سو برس سے تو دنیا برباد ہوئی نہیں اب برباد ہو جائے گی؟ ایک مرتبہ ہمارے بورڈنگ کے بعض لڑکوں نے عرضی دی کہ آپ ہم کو اجازت دیں کہ صبح کی نماز تیمم سے پڑھ لیا کریں یا نماز معاف ہی کرا دیں۔میں نے کہا پانی گرم ہو سکتا ہے جواب دیا کہ وضو سے نکٹائی خراب ہو جاتی ہے۔آجکل جھوٹا گواہ بنا لینا ایک معمولی سی بات ہے۔ایک واعظ آسٹریلیا تک تو جاتا ہے لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ (ھود :۵۲)حالانکہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ایک کوڑی خرچ کرنے سے کروڑوں حاصل ہوتا ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے والد ماجد نے اگر نبی کریمؐ کی کوئی خدمت کی ہے تو یہی کہ نبی کریمؐ کی دس بارہ برس مشکلات میں مدد کی۔آج کوئی دیکھے کہ ایک سیدانی کے پیٹ سے بچہ نکلتے ہی سید کہلاتا ہے اور قیامت تک کے لئے یہ فخر حاصل ہے۔قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ تم میں اختلاف کیوں ہے (المائدۃ :۱۵) جب ہمارے حکم