خطابات نور — Page 544
حلال خور رکھا۔دَ ین مہر کے ایک مقدمہ میں وکیل نے مہر معجل کی جگہ مہر موجل اور موجل کی جگہ معجل پڑھ کر قانون میں دکھا دیا۔انگریزی پڑھے ہوئے آدمی دونوں لفظوں میں مشکل سے فرق سمجھ سکتے ہیں۔آخر جج دھوکا کھا گیا اور غلط فیصلہ لکھ دیا۔باہر نکل کر ایک آدمی نے اس وکیل سے کہا کہ یہ تو تم نے بڑا دھوکا دیا۔وہ کہنے لگا یہی تو ہمارا کمال ہے۔ایک شخص میرے پاس آکر کہنے لگا کہ فلاں خاندان میں مقدمات ہونے والے ہیں آپ کوشش کر دیں کہ فلاں وکیل فلاں جانب پیروی کرے۔میں نے مقدمات کا حال سنا کہ ماں بیٹے میں جھگڑا ہونے والا ہے۔میں نے کہا کہ جب ماں بیٹے کا معاملہ ہے تو مقدمات کی ضرورت ہی کیا ہے۔وہ کہنے لگا کہ مقدمہ تو ہم ضرور کرا دیں گے مگر اندیشہ صرف اس قدر ہے کہ محنت تو ہم کریں اور پھل کوئی اور کھا جائے۔میں نے کہا کہ بس اب پھر میرے پاس نہ آنا۔کہنے لگا کہ یہ تو ہم شرط باندھ کر کہتے ہیں کہ ضرور لڑا دیں گے۔دیکھو تو سہی کیسے مشکلات ہیں دین کو دنیا پر مقدم کرنا کس قدر دشوار ہے، نفاق کس قدر بڑھ گیا ہے۔میرا ایک دوست تھا میں اس کے مکان پر اس سے ملنے گیا وہ پہلے سے ایک شخص کو کچھ نصیحت کر رہا تھا۔میرے پہنچنے پر اس شخص نے کہا اچھا اب رخصت ہوتا ہوں۔میرے اس دوست نے کہا کہ اچھا رخصت مگر ہماری نصیحت کو بھولنا نہیں۔وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا کہ آپ نے کیا نصیحت کی ہے؟ کہا میں نے اس کو سمجھایا ہے کہ تم جہاں تبدیل ہو کر جاتے ہو وہاں سب سے ملنا اور دل میں کینہ رکھنا، فلاں فلاں اشخاص سے خوب دوستی پیدا کر کے ان کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دینا۔میں نے کہا یہ آپ نے خوب نصیحت کی یعنی نفاق کی تعلیم دی، کہا یہ پالیسی ہے۔میں نے کہا آپ عالم فاضل ہیں ذرا پالیسی کے معنے بتا دیجئے کہ پالیسی اور نفاق میں کیا فرق ہے۔کہا آپ نہیں جانتے دنیا میں غفلت بہت بڑھ گئی ہے۔میرا ایک دوست اور شاگرد تھا۔اس نے ایک انگریزی دان شخص سے کہا کہ ہم کو بھی اپنی سوسائٹی میں شریک کر لو۔وہ انگریزی دان انگریزوں کی سوسائٹی میں شامل تھا ان میں ایک برات تھی۔اس نے ان مولوی صاحب سے کہا کہ آپ ایک سوٹ باقاعدہ بنوائیں تو آپ کو برات میں شریک کریں گے۔ان کے پاس ستر روپیہ تھے وہ اس کو دے دئیے اس نے ستر روپیہ میں ان کو ایک باقاعدہ سوٹ بنوا دیا اور اپنے ہمراہ برات میں لے گیا۔جب برات پہنچی تو وہاں شکار کے لئے