خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 542 of 660

خطابات نور — Page 542

سچی استغفار اور توبہ کرو یا وہ مر جائے گا یا تمہارا چھٹکارا ہو جائے گا۔اللہ جلشانہ نے تمہارے لئے ایسا واعظ بھیجا کہ دین کو دنیا پر مقدم کرو۔ہم نے لوگوں کے کفر کے فتوے بھی اپنے اوپر لئے پھر بھی اگر تمہارے معاملات صاف نہیں تو تم نے دین کو دنیا پر مقدم کہاں کیا۔ایک اور مشکل پیش کرتا ہوں۔وہ یہ کہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ جو لوگ معاہدہ کر کے خلاف کرتے ہیں ہم نے ان کی یہ سزا رکھی ہے کہ وہ منافق ہو کر مرتے ہیں اب ہم نے بھی تو اتنا بڑا معاہدہ (اقرار بیعت) کیا ہے۔میرا دل نہیں چاہتا کہ ہماری جماعت میں منافق ہوں۔میرا جی چاہتا ہے کہ میری بات کے سننے والے عمل کرنے والے ہوں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ منافق اکٹھے ہو جائیں۔میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا  (ھود: ۳۰) بلکہ اس عہدہ پر آکر مجھ کو خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے جو پہلے نہیں ہوتا تھا۔ایک سائل آتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں ابھی جاتا ہوں اور میرے پاس خرچ سفر نہیں۔اب میں اس سے یہ کہاں کہہ سکتا ہوں کہ میری چٹھی بنام انجمن لے جائو۔انجمن کہے گی مہینہ کے بعد ہمارا اجلاس ہو گا۔پھر بڑے اہلکار چھوٹے اہلکاروں کے نام حکم لکھیں گے اور اس طرح اس کی تعمیل میں مہینے گزر جائیں گے اور وہ فوراً رخصت ہونا چاہتا ہے۔میں نے اس دکھ کو بڑا محسوس کیا ہے۔جب دنیا کے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ہم نے تم کو نمبردار بنایا ہے۔آپ کا ماہوار خرچ کیا ہو گا؟ میں نے کہا اے مولیٰ! تو نے مجھے کبھی کسی کا محتاج نہیں بنایا اور موت کے قریب بندوں کا محتاج بناتے ہو؟ مجھ کو بڑا مزہ آیا جب کہ میں نے ایک آدمی سے کچھ مانگا۔چند عرصہ کے بعد اس نے کہا میں تو بھول ہی گیا میرا ایمان بہت بڑھ گیا۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا ہی فضل کیا ہے اور وہاں سے رزق دیا جہاں سے میرا وہم وگمان بھی نہ تھا۔باقی یہ کہ میں دو چار عربی کے فقرے اور ضرب المثلیں بیان کروں اس کی ضرورت نہیں۔میں چاہتا ہوں کہ تم دین کو دنیا پر مقدم کرو، لالچ، دغا، شرارت بالکل نہ کرو۔قرآن کا سمجھنا بڑا ضروری ہے سمجھ کر اس پر عمل کرنا اور جناب الٰہی سے دعا مانگنا کہ اسی پر خاتمہ بالخیر ہو۔یورپ میں بہت کتابیں نکلی ہیں کہ اگر نمونہ کے طور پر صرف ان کے ٹائٹل پیج کیا اگر ان کے ناموں کی فہرست بھی پڑھنا چاہیں توطاقت نہیں۔ان سب کے بالمقابل قرآن شریف کو پڑھو