خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 521 of 660

خطابات نور — Page 521

سے یہ رعب اور یہ عزت ہم کو ملی تھی۔مگر بات تو یہ ہے کہ اب اپنا اس پر عملدرآمد ہی نہیں رہا۔اب تو یہ حالت ہو گئی ہے کہ جب کبھی اس کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو جواب یہ ملتا ہے کہ ہم غریب ہو گئے، نادار ہو گئے، بے سروسامان ہو گئے اس لئے اب اتنی فرصت ہی نہیں کہ اس کے درس تدریس کا سلسلہ باقاعدہ جاری رکھا جاوے۔دیکھو تم اپنی رسموں کے پورا کرنے کے لئے تو روپیہ کو پانی کی طرح بہا دو اور اپنے بیاہ شادی کے موقع پر اس قدر خرچ کر دو کہ مقروض ہو جائو مگر جس بات پر تمہاری ترقی، تمہاری عزت، تمہاری بہبودی منحصر ہو اس کا خیال تک بھی نہ ہو۔وہ قومیں جو کبھی تمہارے خیال میں ذلیل تھیں وہی تم کو اب بڑی حقارت سے دیکھتی ہیں کیا تم جانتے ہو کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تم اس عظیم الشان کتاب کی حقیقت سے بکلّی بے بہرہ ہو گئے ہو۔یہ کتاب تمہیں بڑا بنانے کے لئے آئی تھی۔بڑا بننا اب تمہارے اختیار میں ہے۔صحابہ کرامؓ قرآن کریم کی اتباع سے کتنے بڑے آدمی بن گئے۔اس نسخہ پر اب پھر بڑی بھاری عملدرآمد کی ضرورت ہے۔جو صحابہ کرام کے زیر عمل تھا۔اللہ کریم فرماتا ہے یہی ایک کتاب ہے جس کی ساری کی ساری باتیں حکمت سے بھری ہوئی ہیں۔اسے تم شروع سے لے کر اخیر تک بڑے غور سے پڑھ جائو مگر تمہیں ایک بھی ایسی بات نہ ملے گی جو ہلاکت کی راہ بتاتی ہو۔جو کچھ بھی وہ بتاتی ہے تمام سُکھ کی راہیں بتاتی ہے۔کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے کوئی ایسا عمل ہے جس پر کاربند ہونے سے ہمارا نام ۹ نمبر یا ۱۰ نمبر کے بدمعاشوں میں لکھا جاوے۔کیا کوئی ایسی راہ ہے جس پر چلنے سے ہم آتشک میں مبتلا ہو جاویں۔میں بوڑھا ہوں، ۴۷ برس سے یا ۵۰ برس سے طب کرتا ہوں میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ قرآن کریم کی تعلیم اور اس پر عملدرآمد کرنے سے کوئی شخص آتشک یا ایک خاص قسم کا سوزاک ہے اس میں مبتلا ہو گیا ہو۔پر کیا مسلمانوں میں اب آتشک نہیں؟ کیا کوئی مسلمان اب اس سوزاک میں مبتلا نہیں؟ کیا کوئی مسلمان جیل میں نہیں؟ پھر کیا بات ہے قرآن کریم تو اس لئے نازل ہوا تھا کہ تم کو مسلمان اور بڑا بنا دے، سکھی بنا دے، امن چین کے راستے پر قائم کردے پر تم بڑے کیوں نہیں بنے، سُکھی کیوں نہیں ہوئے؟ غور کرو اور خوب غور کرو کہ کیا یہ ذلت، یہ خفّت، یہ بربادی، یہ ہلاکت اس کے احکام پر عمل کرنے کا نتیجہ ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔قرآن کریم