خطابات نور — Page 516
ساتھ ہے اور کچھ پیر کشمیر سے آجاتے ہیں۔ان میں باہم بغض و عناد اور دشمنی ہے اور قرآن مجیدسے اس کا پتا لگتاہے۔(المائدۃ:۱۵) تو جنمیں دشمنیاں تو ہم دیکھتے ہیں پھر شاید یہ بے ادبی ہو اگر ہم ان کو کہیں کہ تم نے قرآن چھوڑ دیا ہے مگر ہم کیا کریں ایسا کہنے پر ہم بھی مجبور ہیں۔کیونکہ قرآن مجید یہی فرماتا ہے اگر کوئی عداوت اور کینہ ہے تو صاف ظاہر ہے کہ قرآن مجید کو چھوڑدیا ہے۔میرا ارادہ تھا کہ تمہیں والعصرسنادوں۔خدا کے فضل اور توفیق سے میں نے سنادی ہے البتہ میری یہ خواہش ہے اور زبر دست خواہش ہے کہ جب مسلمان دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں تو وہ اس کو پڑھیں اور اس پر عمل کریں پھر وہ لوگوں کو پہنچائیں اور اگر مخالفت ہو تو صبرواستقلال سے مقابلہ کریں۔اللہ تعالیٰ کی ہی تو فیق سے یہ ہو سکتا ہے۔مجھے کبھی بھی اس بات کا خیال نہیں ہوتا کہ سننے والے بہت آدمی ہیں یا تھوڑے وہ اعلیٰ طبقہ کے ہیں یا عوام ہیں۔خدا تعالیٰ نے میرے دل سے ان باتوں کو نکال دیا ہے۔میں تو خدا کا کلام پہنچانا چاہتا ہوں خواہ کوئی ایک ہی سننے والا ہو۔یہ بھی یاد رکھو کہ جو بڑے آدمی ہیں وہ ہمارے ساتھ سردست تعلق نہیں رکھ سکتے ہاں وقت آجائے گا کہ بڑے بڑے لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں گے۔ہماری سرکار (حضرت مسیح موعودؑ) سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔مگر اس وقت یہ نہیں ہوسکتا کہ جارج پنجم قادیان میں آجاوے اور آکر مرید ہوجاوے کیونکہ اگر وہ آئے تو اس کے آنے سے پہلے سڑک ، مکان ، تارگھر وغیرہ سب کچھ فوراً تیار ہوجاوے اور جب وہ وہاں آکر یہ سوچے کہ میرے آنے سے قادیان والوں کو کیا فائدہ ہوا اور مجھ کو قادیان سے کیا فائدہ ہوا؟ تو یہی کہے گا کہ ان غریبوں کے پاس پہلے ہی کیا تھا۔میری وجہ سے ان کو یہ فائدہ پہنچا ، وہ نفع ہوا وہ اس پاک صحبت کی قدر نہیں کرسکتا۔پس یہی حال بڑے آدمیوں کا ہوتاہے۔اس لئے سنت اللہ اسی طرح پر چلی آتی ہے کہ جب کوئی مامور و مرسل دنیا میں آتا ہے تو اولاً اس کو غریب اور ضعیف لوگ قبول کرتے ہیں اور بڑے بڑے لوگ قطع تعلق کرلیتے ہیں۔(الانعام:۱۲۴)اکابر ماموروں کے