خطابات نور — Page 517
ساتھ نہیں ہوئے۔غریب اور مسکین ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔پھر ان چھوٹوں کو ان سے نفع پہنچتے ہیں۔میں بھی ایک نمونہ ہوں۔میرا گھر جہاں تھا میرے اب وہ وہم و گمان میں بھی نہیں آتا۔میری ماں اعوان قوم کی ایک زمیندارنی تھی۔اپنی قوم میں وہ اکیلی پڑھی ہوئی تھی اور کوئی مرد یا عورت پڑھے ہوئے نہیں تھے۔قرآن مجید سے اس کو بہت محبت تھی اور ہمیشہ قرآن پڑھا یاکرتی تھی۔خدا تعالیٰ نے میری غذا بھی کلام پاک ہی بنائی ہے میں ہمیشہ اس کو سنا کر جیتا ہوں۔میرا باپ ایک غریب اور مسکین آدمی تھا۔اپنی ضرورت کے موافق تجارت کرلیتا تھا۔میں اپنا حال جانتا ہوں اورمیںخوب سمجھ سکتا ہوں کہ مرزا صاحب کی صحبت میںمَیں نے کیا پایا۔میں نے وہ کچھ پایا جو اہل دنیا اس کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔مرزا نے مجھے کتنا بڑا آدمی بنا دیا۔جارج کی سمجھ ہی میں یہ بات نہیں آسکتی۔اس لئے ارادہ الٰہی اسی طرح ہوتا ہے کہ وہ غرباء کو ماموروں کی صحبت میں بھیج دیتا ہے اور اکابر ان فیوض سے محروم رہ جاتے ہیں۔عبداللہ بن ابی بن سلول اور ابوجہل بڑے آدمی تھے وہ اگر مسلمان ہوجاتے تو پھر اپنی ہی خوبی جتاتے۔اسلام کے احسان اور فضل کو کبھی تسلیم نہ کرتے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے غرباء کو ساتھ کردیا اور وہی غرباء آخر مقوقس اور ہرقل کے مقابلے میں آئے اور دنیا کے فاتح کہلائے۔میرے تو دل میں کبھی آتا ہی نہیں کہ امیر کیوں الٰہی سلسلوں میں نہیں آتے۔پس میں تمہیں اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔(الحکم ۱۴،۲۱؍اگست ۱۹۱۲ء۔صفحہ ۱تا۴)