خطابات نور — Page 489
جاتا ہے ٹیکس کو برا نہیں سمجھا جاتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض تعصب اور ہٹ کا نتیجہ ہے۔انصاف اور غور کو اس میں دخل نہیں ورنہ یہ جزیہ بھی احسان عام میں داخل سمجھا جاتا۔اسلامی جنگوں پر ایک نظر: یہ تو جزیہ کی حقیقت ہے۔رہیں لڑائیاں، وہ الگ چیز ہیں۔ان کے تعلقات دین سے نہیں ہوتے۔مثلاً آج جو تم لوگوں کے خیال میں روشنی کا زمانہ ہے اور امن اور صلح کا عہد ہے۔کیا لڑائیاں مٹ گئیں بلکہ جس قدر بحری اور برّی لڑائیوں کے ہتھیاروں کی ایجاد ہوئی ہے۔پہلے زمانوں میں اس کی نظیر بھی نہیں ملتی۔سمندر میں جائو، ہوا میں جائو، قاتل ہتھیار تمہارے لئے موجود ہیں۔بعض ہتھیاروں کے موجد سے کہا گیا کہ یہ بدامنی کی راہ ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ ان ہتھیاروں سے جنگ کا دامن لمبا نہیں ہوتا جلد فیصلہ ہوجاتا ہے۔پھر جب ہم غور کرتے ہیں تو کیا کوئی زمانہ لڑائیوں سے خالی گیا ہے۔اگر عام جنگیں نہ ہوں تو خانہ جنگیاں ہی شروع ہوجاتی ہیں۔بوئروں کی جنگ ابھی چھڑی نہ تھی۔ایک میرے دوست نے کہا کہ اب جنگ کا خاتمہ ہے۔تھوڑے دنوں کے بعد بوئروں کی جنگ چھڑ گئی۔تب میں نے اس سے پوچھا کہ کیوں صاحب جنگ کا خاتمہ ہوگیا؟ بہر حال پھر میں نے کہا کہ دونوں ہی پراٹسٹنٹ ہیں۔اس نے کہا ہاں آپ کا اعتراض درست ہے۔جاپان کو کچھ اگر معزز بنایا تو جنگ نے۔غرض جنگ دنیا سے کبھی دور نہیں ہوئی اور یہ ایک اٹل چیز ہے اس کے اسباب الگ ہیں۔ہندو قوم میں جنگیں: ہندو اگر جنگوں پر اعتراض کرتے ہیں تو ان سے ہم پوچھتیہیں کہ کرشن جی پہلے تھے یا رام چندر جی۔جب مہا بھارت اور گیتا کو پڑھتے ہیں تو راما اوتار کا ذکر نہیں پاتے اور رامائن کو پڑھتے ہیں تو اس میں کرشن جی کا ذکر نہیں۔بالبک مفصل تاریخ رام کی ہے اور تلسی رامائن عام فہم تاریخ ہے مگر اس میں کرشن دیو کا ذکر نہیں اور مہا بھارت گیتا میں کرشن کا بہت بڑا تذکرہ ہے مگر راما اوتار کا نہیں۔ان دونوں کے متعلق جب ہم غور کرتے ہیں تو بڑے ہی ہر دل عزیز ہیں۔جوگ بششٹ سے رام چندر جی کی تعلیم کا پتا لگتا ہے وہ ان کے استاد کی کتاب ہے وہ بہت نرم چلنے والے تھے اگر گرم ہوتے تو بن باس کے وقت فوج کو گانٹھ سکتے تھے اور اجودھیا میں خون کی ندیاں بہادیتے۔عورت کا مقابلہ چیز ہی کیا تھا۔مگر اپنا وطن