خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 463 of 660

خطابات نور — Page 463

نے فطرت کے معنے بھی گندے کر لئے ہیں اور فطرت کو شرارت کا مفہوم قرار دے دیا ہے مگر یاد رکھو فطرت دین قیم کا نام ہے۔پس تمہارا یہ عذر کہ ہماری طاقت سے باہر یا فطرت کی استعداد کے خلاف ہے میری اپنی تقریر پر تو ہو سکتا ہے مگر خالق ومالک کے کلام پر نہیں اور میں وہی پیش کرتا ہوں۔اس کلام کا علم اور قدر جو محمد رسول اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھی وہ اس سے ظاہر ہے جو قرآن کریم کے متعلق فرمایا (البقرۃ :۳)یہی ایک کتاب ہے جس میں کوئی ہلاکت کی راہ نہیں یا شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔رَیْبَ کے دو معنی ہیں شک وشبہ اور ہلاکت اور دونوں ہی یہاں خوب لگتے ہیں۔قرآن کریم میں شک وشبہ نہیں بالکل درست ہے اس کی ساری ہی تعلیم یقینیات پر مبنی ہے ظنّی اور خیالی نہیں یا آجکل کی اصطلاح میں یوں سمجھ لو کہ قرآن مجید میں تھیوریاں نہیں بلکہ بصائر ہیں وہ (بنی اسرائیل :۱۰) ہے۔پھر قرآن مجید میں ہلاکت کی راہ نہیں یہ بھی سچ ہے کیونکہ اس میں توشفائُ لِلنّاسہے۔غرض کلام الٰہی کی تعریف کی حد کر دی کہ یہی ایک کتاب ہے اور کتاب ہی نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کیا عمل کیا کہ اس کے سوا اور کوئی کتاب دیکھی ہی نہیں۔تورات ممکن تھی مگر اس کے لئے بھی کہتے ہیں (اٰل عمران :۹۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم ہی لائو اور پڑھو۔پس میں اسی کتاب کی چند آیتیں سناتا ہوں۔متقی بنو:   (اٰل عمران:۱۰۳) ایمان والو، متقی بن جائو اور جو تقوٰی کا حق ہے وہ ادا کرو اور نہ مریو مگر اس حالت میں کہ تم فرمانبردار ہو۔گویا تم موت کو کہہ دو کہ آ جب تیری مرضی ہے توُ ہم کو مسلمان پائے گی۔موت کا کسی کو کیا علم ہے کہ کب آجائے گی اور یہاں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تمہیں ایسی حالت میں موت آوے کہ تم کامل فرمانبردار ہو۔یہ بڑا مشکل مرحلہ ہے جو کبھی طے نہیں ہو سکتا۔جب تک ہر گھڑی انسان موت کے لئے تیار اور فرمانبردار نہ ہو۔موت کے وقت انسان کی کیا حالت ہوتی