خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 441 of 660

خطابات نور — Page 441

دھکا دیتا ہے اور ایک پستان جو آپ پی رہا ہے دوسرے کو نہیں لینے دیتا۔(۶) دو ضدوں کو خوب سمجھتا ہے کھڑا ہونے کو جی نہ چاہے تو نہیں اٹھتا‘ بیٹھنے کو نہ چاہے تو کھڑا ہو جائے گا۔(۷) صدق وکذب کو خوب سمجھتا ہے مٹھائی نہ دو اور یونہی کہہ دو کہ تمہارے ہاتھ میں ہے کبھی نہ مانے گا۔(۸،۹) مکان اور زمان کو بھی سمجھتا ہے۔(۱۰) سمعیات کی سچائی کو جانتا ہے جو تمہیں کہتے سنتا ہے اسی کو یقین کر کے ان چیزوں کو اسی نام سے پکارتا ہے جس سے تم پکارتے ہو۔(۱۱) یہ بھی جانتا ہے کہ علم غیب نہیں۔(۱۲) یہ بھی مانتے ہیں کہ فعل بدوں فاعل کے نہیں ہوتا۔غرض اس قسم کے بہت سے علوم فطرتاً دیئے جاتے ہیں۔پس تم اگر ان فطرتی علوم سے کام لو تو اللہ تعالیٰ پھر نفس مطہر دے کر خود قرآن مجید سکھا دیتا ہے۔غرض تم اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو یاد کرو کہ تم باہم اعداء تھے اس نے تمہیں بھائی بنا دیا اس اخوت کی قدر کرو اور سچے دل سے قدر کرو۔ہمارے اصول: پس میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ ہمارے اصول مشکل نہیں ہیں بلکہ بہت آسان ہیں اول ایمان باللہ۔ایمان باللہ کیا چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ کو تمام صفات کاملہ سے موصوف اور تمام محامد اور اسماء حسنیٰ کا مجموعہ اور مسمّیٰ اور تمام بدیوں اور نقائص سے منزّہ یقین کرنا ہے اور اللہ کے سوا کسی وجود اور ہستی سے امید وبیم نہ رکھنا اور کسی کو اس کاندّ اور شریک نہ ماننا۔وہ اپنی ذات میں یکتا‘ اپنی صفات میں بے ہمتا‘ اپنے اسماء اور افعال میں  (الشورٰی:۱۲) ہے۔پھر ملائکہ پر ایمان ضروری ہے جو تمام نیک تحریکوں کے محرک ہیں اور ان پر ایمان لانے کی یہی غرض ہے کہ انسان ان پاک تحریکوں پر عمل کرے۔ایمان کے ارکان: یہ ملائکہ نزول بھی کرتے ہیں اور ان پاک بندوں پر جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھاتے ہیں اور استقامت کے درجہ پر پہنچتے