خطابات نور — Page 410
ایک دفعہ دور ملک سے ایک شخص آیا اور اَڑھائی روپے دئیے اور کہا کہ یہ بڑے اَطْیَبْ ہیں آپ کھائیں گے تو نیا رنگ دیکھو گے۔ایک شخص نے کھدر کا کرتہ دیا ہے اس نے کہا کہ خاص تیرے لئے ہے اور ایسی اطیب چیز سے بنا ہے کہ اس کو دیکھ کر میرا ایمان بڑھ جاتا ہے۔یہ تین مثالیں ہیں باقی کے روپیہ کو میں سنبھال کر رکھتا ہوں اور کبھی مشورہ کرتا ہوں کہ کیا کروں۔بہر حال انہیں ایسی جگہ خرچ کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا موجب ہو۔پس میری طرف سے مطمئن رہو کہ میں مال کا بھوکا نہیں۔بڑا بننے کی خواہش بھی نہیں۔میں اپنی بیوی کو محدود خرچ مہینہ میں دیتا ہوں۔تمہارے اموال اور نیتیں نیک ہوئیں تو میں انہیں نیک جگہ خرچ کروں۔غرض یاد رکھو کہ ایک نصیحت تو یہ ہے کہ جھگڑے نہ کرو۔دوم صبر سے کام لو۔سوم صدقہ وخیرات دو اپنی ذاتی کمائی سے۔چہارم یہاں کے لوگ جن کے قبضہ میں روپیہ آتا ہے ان کی نسبت بدگمانی نہ کرو۔اللہ تعالیٰ کو اس جماعت کے بعض بندے بڑے ہی پیارے ہیں۔ایسا نہ ہو کسی کی نسبت بدگمانی کر کے نقصان اٹھائو۔اور یہ بھی یاد رکھو کہ اب مرنے کے قریب ہوں مگر میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں اور بڑا خیر خواہ ہوں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔میں نے اپنی اولاد کے لئے روپیہ نہیں رکھا۔میرے باپ نے مجھے کوئی روپیہ نہیں دیا اور نہ بھائی نے دیا۔مگر میرے مولا نے مجھے بہت کچھ دیا۔اور وہی دیتا ہے پس تم بدگمانی سے توبہ کر لو۔یہ باتیں میں نے بہت سوچ سوچ کر کہی ہیں میرے دماغ میں خشکی ہو تو ہو مگر ان باتوں میں خشکی نہیں۔آپس میں محبت رکھو تنازعہ نہ کرو۔بدگمانی نہ کرو۔کوئی اگر ناراض ہو تو صبر سے کام لو اور دعائیں کرو۔ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو جو میرا پیارا ہے نصیحت کرنے کا ارادہ کیا میں مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ تم اس کو نصیحت نہ کرو اگر اس نے نہ مانا تو تم کو رنج ہو گا میرے دل پر اس سے کچھ بوجھ گزرا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ تم اس کے لئے دعا کرو ہم اپنی حکمت کاملہ سے سمجھا دیں گے وہ بڑا غریب نواز ہے۔اس لڑکے پر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا کہ اسے شرمندگی سے بچا لیا۔پس ایسے لوگوں کے لئے دعا کرو اور نماز میں دعائیں کرو۔یہ معرفت کی باتیں ہیں مجھے کہنے میں معذور سمجھو۔میرے دل کی خواہش برس بھر سے تھی۔بدگمانی بھی ہوئی کہ