خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 388 of 660

خطابات نور — Page 388

بعض تفسیروں کے خصوصاًاقوال مل گئے کہ یہ تین منسوخ نہیں ہیں۔اس پر مجھے پہلے کی طرح پھر ایسا جوش خوشی کا ہوا کہ باقی دو آیتوں کی طرف میں نے کوئی توجہ نہ کی۔اس کے بعد میں ایک دفعہ ریل کے سفر میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا جس میں مجھے ان دو میں سے ایک کے متعلق یہ تحقیقات ملی کہ وہ منسوخ نہیں ہے اب ایک رہ گئی۔پھر مجھے ایک تفسیر ملی جس میں اس کا بھی جواب تھا۔تب تو میں بہت مضبوط ہو گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ قرآن شریف میںکوئی آیت بھی منسوخ نہیں ہے۔فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ایک سوفسطائی سے ملاقات اس مسئلہ کا تو اس طرح سے تصفیہ ہوا لیکن یہ شوق مجھے ہمیشہ دامنگیررہا کہ میں دیکھوں کہ مختلف مذاہب کیا ہیں اور ان کا باہمی اختلاف کس حد تک ہے ایک جھگڑا تو ہمارے ساتھ عمل بالحدیث یا عمل بالفقہ کا تھا۔بدعت وشرک کامقابلہ ہو رہا تھا مگر یہ اختلاف محدود دائرہ کے اندر تھا اور (آل عمران:۲۰) کی جو آواز میرے کان میں پڑی تھی اس پر بہر حال کوئی حملہ نہ تھا یہ اختلاف اسلام پر حارج نہ تھا مگر اسلام کی مقدس کتاب کی راہ میں ان سے ضرور مشکلات ڈالے گئے تھے۔اس کے بعد پھر جو مجھے ایک دفعہ لاہور آنے کا موقع ہو ا تو اللہ تعالیٰ کے احسان سے مجھے ایک سوفسطائی کے خیالات معلوم کرنے کا موقع ملا۔میرا کسب طبابت ایسا ہے کہ مجھے ہر ایک قسم کے شخص سے ملاقات کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔وضیع و شریف ،امیر وغریب ، نیک وبد ،تاجر ، ملازم ، اہل حرفہ مرد ،عورت ، بچہ بوڑھا غرض ہر قسم کے اشخاص کے ساتھ ملاقات کا ذریعہ رہتا ہے۔جوانی کے عجیب جوشوں میں مختلف مجالس میں اور مختلف صحبتوں میں ہر قسم کے آدمیوں کے ساتھ ملنے کا اتفاق ہوا اور اسلام کے ساتھ غیر مذاہب کے مقابلہ کا موقع ملتا رہا۔الغرض جب میں لاہور میں محلہ سید مٹھا میں تھا ایک خاص تعلق کے سبب اس محلہ میں مجھے ایک شخص ملا جو کہ سو فسطائی مذہب کا تھا اس نے کہا ہمارا مذہب ایسا ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ اس پر کوئی زد پڑ سکتی ہے کیونکہ اثبات کے واسطے لوگ نیچر کو پیش کرتے ہیں ہم خود نیچر ہی کو نہیں مانتے۔اس واسطے نیچر کے ذریعہ سے بھی ہمارا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔مجھے سوفسطائی کے دیکھنے کا شوق تھا میں نے یہ لفظ تو سنا ہوا تھا مگر اس کا پابند کوئی نہ دیکھا تھا اس